امریکی کارروائی، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نیویارک منتقل، تیل پر کنٹرول کا عندیہ، صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی
نیویارک : وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی کارروائی کے بعد نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اتوار کے روز ایک حراستی مرکز میں موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار کو یقینی بنانا ہے۔
ہفتے کی صبح ہونے والی اس غیر معمولی کارروائی کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے بعض علاقوں میں بجلی منقطع رہی جبکہ چند فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ امریکی اسپیشل فورسز نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساحلی علاقے میں موجود ایک امریکی بحری جہاز تک منتقل کیا، جہاں سے صدر نکولس مادورو نیویارک منتقل کر دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک وینزویلا کے معاملات کی نگرانی کرے گا جب تک وہاں اقتدار کی محفوظ اور منصفانہ منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن زمینی فوج کے استعمال سے خوفزدہ نہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق مادورو کو لے جانے والا طیارہ ہفتے کی رات نیویارک سٹی کے قریب اترا، جہاں سے انہیں سخت سیکیورٹی میں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر منتقل کیا گیا۔ جاری کی گئی تصاویر میں مادورو کو دورانِ پرواز ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی لگائے دیکھا گیا، جبکہ بعد ازاں انہیں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں ایک راہداری سے گزرتے دکھایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نکولس مادورو پر نارکو دہشت گردی کی سازش سمیت مختلف وفاقی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں پیر کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو نیویارک منتقل کو ’’اغوا‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی پر بیان میں کہا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے واحد آئینی صدر ہیں اور ان کی اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ وینزویلا کی ایک عدالت نے ڈیلسی روڈریگز کو عبوری طور پر صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تمام پیش رفت میں وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی، جہاں وہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے خستہ حال انفرااسٹرکچر کی بحالی کریں گی اور بڑے پیمانے پر تیل کی پیداوار اور فروخت ممکن بنائیں گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور وینزویلا کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، تاہم حالیہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک غیر معمولی اور سنگین موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
🚨#URGENTE |
Primeras IMÁGENES de Nicolás Maduro bajando del avión y llegando a las oficinas de la DEA.
🇻🇪 #VenezuelaLibre pic.twitter.com/mucbb2qRsk
— Vicky Dávila (@VickyDavilaH) January 4, 2026
One Response