کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 2000 کلو سے زائد بارودی مواد برآمد

کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، سی ٹی ڈی کارروائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 3 دہشت گرد گرفتار

کراچی ایک بار پھر ایک بڑی آزمائش سے محفوظ رہا، جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ یہ کارروائی نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاس ہے کہ دشمن عناصر اب بھی ملک کے امن کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی تفصیلات

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حساس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کئی دنوں کی نگرانی اور منصوبہ بندی کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ ان کے مطابق کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانے کے لیے مختلف اداروں نے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی۔

ابتدائی طور پر ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید دو دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران 2000 کلوگرام سے زائد انتہائی خطرناک دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، جو کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا۔

گرفتار دہشت گرد کون ہیں؟

پولیس کے مطابق گرفتار دہشت گردوں میں:

جلیل عرف فرید

نیاز عرف کنگ

حمدان عرف فرید

شامل ہیں۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ دہشت گرد کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو شہر میں ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان ہو سکتا تھا، مگر اللہ کے فضل سے کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

بارودی مواد کہاں سے آیا؟

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دھماکا خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی لایا گیا تھا۔ دہشت گردوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں اسے ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد انتہائی حساس نوعیت کا تھا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جا سکتی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی

پولیس حکام نے واضح کیا کہ اگر یہ کارروائی بروقت نہ کی جاتی تو صورتحال نہایت سنگین ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا کر شہر کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا گیا ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اداروں کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر مملکت داخلہ کا مؤقف

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اس کامیاب کارروائی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے تانے بانے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن قوتیں پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر ہر بار ناکامی ان کا مقدر بنتی ہے۔

دہشت گرد نیٹ ورکس کے محفوظ ٹھکانے

طلال چوہدری کے مطابق کالعدم تنظیمیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کر رہی ہیں اور وہاں سے اپنے نیٹ ورکس کو آپریٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اکثر رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی ضروری ہے تاکہ کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانے جیسے اقدامات مستقبل میں بھی ممکن بنائے جا سکیں۔

سندھ حکومت کا ردعمل

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے بھی سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کراچی میں بڑی تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر اداروں نے انہیں ناکام بنا دیا۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر ہر محاذ پر ناکام رہا ہے۔

شہریوں میں اطمینان

اس کامیاب کارروائی کے بعد شہریوں نے سیکیورٹی اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے چوکس ہیں اور ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

راجن پور: کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی میں گینگ کا سرغنہ ہلاک

نتیجہ

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور دشمن عناصر اسے نشانہ بنانے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم حالیہ کارروائی نے ثابت کر دیا کہ سیکیورٹی ادارے ہر لمحہ الرٹ ہیں۔ کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا کر نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]