جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس والی چینی ضبط، ایف بی آر کی ٹیکس چوری کے خلاف بڑی کارروائی
ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ٹو کراچی نے ٹیکس چوری کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس لگی چینی کی 1,800 بوریاں ضبط کر لیں۔ یہ چینی تین بڑے ٹرکوں میں لدی ہوئی تھی، جنہیں کارروائی کے دوران تحویل میں لے لیا گیا۔ اس کارروائی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مؤثر عمل درآمد کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق یہ کارروائی ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی نے ان لینڈ ریونیو انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن کے اشتراک سے انجام دی۔ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی میں انکشاف ہوا کہ زیرِ ترسیل چینی کی بوریوں پر لگے ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس جعلی تھے، جو براہِ راست قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مقصد چینی سمیت مختلف اشیائے ضروریہ کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی مکمل نگرانی کرنا ہے تاکہ ٹیکس چوری، غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ جیسے جرائم کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ جعلی اسٹیمپس کا استعمال اس نظام کو ناکام بنانے کی کوشش کے مترادف ہے، جسے قانون کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
ایف بی آر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تینوں ٹرکوں کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لے لیا گیا اور ضبط شدہ چینی کو ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی کے نیپا احاطے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں مال کو محفوظ کر کے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضبط شدہ چینی کے نمونے فرانزک جانچ کے لیے بھی بھیجے جا رہے ہیں تاکہ جعلی اسٹیمپس کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چینی کی یہ بڑی کھیپ ٹیکس ادا کیے بغیر مارکیٹ میں فروخت کیے جانے کی تیاری میں تھی، جس سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ انفورسمنٹ کی یہ کارروائی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چینی، سگریٹ اور دیگر اشیاء میں ٹیکس چوری کے کئی بڑے کیسز بے نقاب ہوئے ہیں۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق چینی کا شعبہ طویل عرصے سے ٹیکس چوری اور غیر شفاف کاروباری طریقوں کے حوالے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے بعد پہلی بار حکومت کو اس شعبے میں پیداوار اور ترسیل پر مؤثر کنٹرول حاصل ہوا ہے۔ تاہم جعلی اسٹیمپس جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کچھ عناصر اب بھی قانون سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس کی تیاری اور استعمال میں ملوث نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا، ٹرانسپورٹ ریکارڈ، فیکٹریوں کی تفصیلات اور متعلقہ افراد کے مالی لین دین کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگر تحقیقات میں مزید افراد یا ادارے ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
کاروباری اور صنعتی حلقوں نے ایف بی آر کی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے والے عناصر نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ایمانداری سے کاروبار کرنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ شفاف اور سخت انفورسمنٹ سے مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول بہتر ہوگا اور ریاستی آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
ایف بی آر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی جعلسازی یا بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام اور کاروباری طبقے سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
مجموعی طور پر ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی کی جانب سے جعلی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس والی چینی سے لدے تین ٹرکوں کی ضبطگی ٹیکس چوری کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ ایف بی آر قومی خزانے کے تحفظ اور ٹیکس نظام میں شفافیت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا، تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔


One Response