ڈی جی آئی ایس پی آر: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز یک زبان
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی واضح بیانیہ ہے، اور اس بیانیے سے کسی کو بھی ٹس سے مس کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ریاست، اداروں اور پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔
جی ایچ کیو میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال پیغامِ پاکستان کے بیانیے کا ایک بار پھر واضح انداز میں اعادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نہ صرف علما اور مشائخ کے لیے کلیئرٹی موجود ہے بلکہ ہندوستان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھی صورتحال مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2025 میں افغان طالبان، خوارج اور ہندوستان کے باہمی روابط کھل کر سامنے آ چکے ہیں، جب کہ اس سال بعض مزید باریک اور خطرناک پہلو بھی منظرِ عام پر آئے ہیں۔ انہوں نے بھارتی میڈیا پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بھارتی تجزیہ کار کھلے عام یہ کہتا نظر آیا کہ افغانستان اور بھارت مل کر پاکستان پر حملہ کریں گے، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کوئی ایسا شوق رکھتا ہے تو پاکستان ہر طرح سے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صوبے میں دہشتگردی کے لیے سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران افغان طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا، اور یہ کہ طالبان کا نام نہاد اسلام دراصل ہندوستان کے سامنے جھکنے کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت کوئی باقاعدہ حکومت موجود نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ طاقت کے زور پر قابض ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے، اور اب عالمی برادری بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اس وقت کم از کم 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں، جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک صوبے کی حکومت یہ کہتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں آپریشنز کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سوات جیسے حالات ایک بار پھر پیدا ہوں، جہاں دہشتگردوں نے ہزاروں بے گناہ افراد کو شہید کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار ان عناصر کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے جو دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اور اگر ان سے چند بنیادی سوالات بھی پوچھ لیے جائیں تو ان کے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہوتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایسے عناصر فتنہ الخوارج کا منظورِ نظر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کے بیانات پر بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے اور کابل ہماری سکیورٹی کی ضمانت دے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس مؤقف کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کون سی پالیسی ہے کہ دہشتگردی کے مسئلے کا حل افغانستان سے مدد مانگنے میں تلاش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو پھر کیا خوارج کے قدموں میں بیٹھنا مقصود ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے یا اس کی بیعت کر لی جائے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا افغانستان کا حکمران یہ طے کرے گا کہ چارسدہ یا پشاور میں کیا ہوگا؟
آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی ابہام، کمزوری یا دوغلے پن کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ہمیں ہر صورت جیتنی ہے، اور اس کے لیے ریاست، ادارے اور قوم ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔

