اسلام آباد ایم ٹیگ ڈیڈ لائن ختم، بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع

اسلام آباد ایم ٹیگ ڈیڈ لائن ختم ہونے پر ایم ٹیگ سینٹرز پر رش
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی دارالحکومت میں ایم ٹیگ کی مہلت ختم، شہریوں کیلئے آخری انتباہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کے حوالے سے وزیر داخلہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کا آج آخری روز ہے، جس کے باعث شہر بھر کے ایم ٹیگ سینٹرز پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد آخری وقت میں اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کے لیے سینٹرز کا رخ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں قائم 16 ایم ٹیگ سینٹرز پر اب تک مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 965 گاڑیوں کو ایم ٹیگ فراہم کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی شہریوں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم ٹیگ کے حوالے سے دی گئی مہلت آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی، جس کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ ڈیڈ لائن کے بعد قانون پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے اس حوالے سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد کسی بھی شہری کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر ایم ٹیگ کے گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں فوری طور پر شروع کی جائیں گی اور شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جائے گی۔

ڈی سی اسلام آباد کے مطابق شہر کے 12 اہم انٹری پوائنٹس اور مختلف ناکہ جات پر جدید ایم ٹیگ ریڈرز نصب کر دیے گئے ہیں، جو بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی فوری نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ریڈرز کی مدد سے نہ صرف گاڑیوں کی شناخت کی جائے گی بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ نظام کا بنیادی مقصد شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانا، گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنا اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ ایم ٹیگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے والی اور باہر جانے والی گاڑیوں کی مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی، جس سے جرائم کی روک تھام اور مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنا آسان ہو جائے گا۔

شہریوں کی بڑی تعداد نے انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا ہے، تاہم کچھ شہریوں نے آخری دن رش اور طویل انتظار پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ کئی ایم ٹیگ سینٹرز پر صبح سویرے ہی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، جبکہ بعض مقامات پر شہریوں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ اس کے باوجود زیادہ تر شہری اس بات پر متفق نظر آئے کہ ایم ٹیگ نظام شہر کے بہتر مستقبل کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔

ایم ٹیگ سینٹرز پر موجود عملے کے مطابق رش کے باوجود ٹیگ لگانے کا عمل مسلسل جاری رہا اور اضافی عملہ بھی تعینات کیا گیا تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو یہ سہولت بھی دی گئی کہ تمام ضروری دستاویزات مکمل ہونے کی صورت میں ٹیگ فوری طور پر جاری کر دیا جائے۔

ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی یا جرمانے سے بچنے کے لیے ہر صورت اپنی گاڑی پر ایم ٹیگ لگوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف قانون کی پاسداری کے لیے ضروری ہے بلکہ شہریوں کی اپنی سہولت اور تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ڈیڈ لائن کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے، گاڑی کی ضبطگی اور دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں ایم ٹیگ نظام کا نفاذ ایک جدید اور ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ سسٹم کی جانب اہم قدم ہے، جو مستقبل میں اسمارٹ سٹی منصوبوں کے لیے بھی معاون ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس نظام پر مستقل اور شفاف طریقے سے عملدرآمد کیا گیا تو اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔

مجموعی طور پر اسلام آباد میں ایم ٹیگ ڈیڈ لائن کا آج آخری دن شہریوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اب مزید مہلت نہیں دی جائے گی، لہٰذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ بروقت اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوا کر ممکنہ کارروائی سے خود کو محفوظ رکھیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس فیصلے کے بعد شہر میں ٹریفک نظم و ضبط اور سیکیورٹی کی صورتحال کس حد تک بہتر ہوتی ہے، تاہم فی الوقت انتظامیہ اس نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]