کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی، دو حصے زمین بوس، افراد کے دبے ہونے کا خدشہ
کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں رات گئے لگنے والی ہولناک آتشزدگی نے شہر کو ایک اور بڑے سانحے سے دوچار کر دیا۔ اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں پلازہ کے تین میں سے دو حصے مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آگ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر اچانک لگی، جہاں مختلف تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شارٹ سرکٹ یا کسی آتش گیر مواد کی موجودگی اس حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ چند ہی لمحوں میں اس نے بالائی منزلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور شعلے دور دور تک دکھائی دینے لگے۔
آگ کی شدت کے باعث عمارت کا اسٹرکچر کمزور ہوتا چلا گیا اور کچھ ہی دیر بعد پلازہ کے تین میں سے دو حصے زمین بوس ہو گئے۔ عمارت کے منہدم ہونے سے ملبے کا ڈھیر لگ گیا، جس کے نیچے متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے وقت عمارت میں موجود کئی افراد اب تک لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا، جو کہ انتہائی خطرناک نوعیت کی ہوتی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے کئی گھنٹوں تک مسلسل کوششیں کی جاتی رہیں، تاہم عمارت مکمل طور پر جل چکی تھی جس کے باعث آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے بعد سے کئی افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ لواحقین اسپتالوں اور جائے حادثہ پر اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین نظر آئے۔
واقعے کے بعد علاقے کی بجلی اور گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس نے بھی متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث آگ نے تیزی سے پھیلنے کا موقع پایا۔ ابتدائی مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلازہ میں نہ تو فائر الارم سسٹم مؤثر تھا اور نہ ہی ایمرجنسی اخراج کے راستے واضح تھے، جس کی وجہ سے لوگوں کو بروقت باہر نکلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ گل پلازہ میں موجود درجنوں دکانیں، دفاتر اور سامان مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی اس ایک حادثے میں تباہ ہو گئی، جبکہ کئی خاندانوں کا روزگار بھی اس سانحے سے متاثر ہوا ہے۔
واقعے نے ایک بار پھر شہر میں عمارتوں کی خستہ حالی اور فائر سیفٹی قوانین پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شہر بھر کی کمرشل عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جیسے ہی شواہد مکمل ہوں گے، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ کسی ممکنہ دبے ہوئے فرد کو بروقت نکالا جا سکے۔
گل پلازہ کا یہ سانحہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے، جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ حفاظتی اقدامات میں معمولی سی غفلت بھی بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔


One Response