سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، پاکستان میں نئی تاریخ ساز بلند سطح

پاکستان میں آج سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی کشیدگی اور امریکی شرح سود میں کمی کی توقعات، سونے اور چاندی کے نرخ نئی بلندیوں پر پہنچ گئے

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث قیمتی دھاتوں کے نرخ تاریخ کی نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، امریکا کی جانب سے ایران میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق خدشات، مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگی صورتحال کے بادل، اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کمی کی بازگشت نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سونا اور چاندی مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی ممکنہ کمزوری اور مرکزی بینکوں کی نرم مانیٹری پالیسیوں کی توقعات نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ اثاثے (Safe Haven) کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے نئی ریکارڈ سطحیں قائم کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 75 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت بڑھ کر 4 ہزار 670 ڈالر فی اونس کی نئی تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں اس غیر معمولی اضافے کے اثرات فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھے گئے، جہاں سونے کے نرخوں میں یکدم بڑا اضافہ سامنے آیا۔

ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 500 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا بڑھ کر 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 431 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی دس گرام سونے کی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے ہو گئی۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے سے بڑھ کر 9 ہزار 782 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی، جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 257 روپے اضافے کے بعد 8 ہزار 386 روپے کی سطح پر آ گئی۔

سرفہ بازار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا، یا امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں کمی کے اشارے دیے، تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق غیر یقینی معاشی حالات میں سرمایہ کار اسٹاک اور دیگر خطرناک سرمایہ کاری کے بجائے سونے کا رخ کر رہے ہیں، جس سے طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب زیورات کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تیزی کے باعث عام خریداروں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو رہی ہے اور شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود سونے کی فروخت میں کمی کا خدشہ ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کے نقطۂ نظر سے سونا بدستور ایک پرکشش اور محفوظ انتخاب سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا مجموعی طور پر کہنا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے پیش نظر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم قریبی مستقبل میں ان قیمتی دھاتوں کے نرخ بلند سطحوں پر رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]