پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، سرمایہ کار پُرامید
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک نئی تاریخی سطح عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس سے بھی اوپر چلا گیا۔ کاروبار کے آغاز ہی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ میں بھرپور خریداری کا رجحان غالب رہا۔
ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی ہنڈرڈ انڈیکس میں 2200 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس بڑھ کر 187,491 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ تیزی نہ صرف حالیہ دنوں کی بلند ترین سطح ہے بلکہ مارکیٹ کے مجموعی مثبت رجحان کی بھی عکاس ہے۔
مارکیٹ میں سب سے زیادہ خریداری آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری کے شعبوں میں دیکھی گئی۔ ان اہم سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے مجموعی انڈیکس کو اوپر لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
نمایاں طور پر جن کمپنیوں کے حصص مثبت زون میں رہے ان میں اے آر ایل، حبکو، ماری پٹرولیم، او جی ڈی سی، پول، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک شامل ہیں۔ بینکاری اور توانائی کے شعبوں میں مضبوط کارکردگی کو مارکیٹ کی تیزی کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، متوقع مثبت پالیسی اقدامات اور کارپوریٹ سیکٹر سے جڑی بہتر توقعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں ممکنہ اضافے اور شرح سود سے متعلق مثبت توقعات نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو سہارا دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس 185,098 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا، جب کہ نئے ہفتے کے آغاز پر ہی انڈیکس میں ہزاروں پوائنٹس کا اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ مزید نئی بلندیاں چھو سکتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھنے کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے۔


One Response