محفوظ بسنت: عدالت نے حکومت سے اجازت یافتہ بلڈنگز اور حفاظتی اقدامات کی تفصیل طلب کرلی

محفوظ بسنت کیلئے لاہور میں پتنگ بازی کے حفاظتی اقدامات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عدالت کا محفوظ بسنت پر زور، حکومت سے اجازت یافتہ بلڈنگز اور حفاظتی اقدامات کی تفصیلات طلب

عدالت نے حکومت پنجاب سے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی اجازت دی جانے والی عمارتوں کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی، جہاں جسٹس ملک محمد اویس خالد نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس محمد اویس خالد نے ریمارکس دیے کہ بسنت لاہور کی ایک تاریخی اور ثقافتی پہچان ہے اور تقریباً پچیس سال بعد یہ تہوار دوبارہ منایا جا رہا ہے، لہٰذا اس موقع پر مؤثر اور قابلِ عمل حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کی چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے کیے گئے تمام اقدامات پر مشتمل ایک مفصل رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی سپیشل سیکرٹری ہوم کو ہدایت کی گئی کہ وہ حفاظتی اقدامات کی رپورٹ سمیت 26 جنوری کو عدالت میں پیش ہوں۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد اویس خالد نے سوال اٹھایا کہ بسنت کے تہوار کے دوران شہریوں کی شکایات سننے کے لیے کوئی ایمرجنسی کال نمبر کیوں قائم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ محفوظ بسنت منانے کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کیسے ہوگا اور عام شہری کو ان حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیسے کیا جائے گا؟

اس موقع پر سپیشل سیکرٹری ہوم نے عدالت کو بتایا کہ بسنت کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بسنت کا انعقاد 6، 7 اور 8 تاریخ کو کیا جائے گا اور ان تاریخوں سے قبل کسی قسم کی پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف کارروائی اس انداز میں نہیں ہونی چاہیے جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔ جسٹس محمد اویس خالد نے کہا کہ شہریوں کی چادر اور چار دیواری کا تحفظ آئینی حق ہے اور بغیر وارنٹ گرفتاری کے کارروائیوں پر سنجیدہ تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ بغیر عدالتی اجازت کے گھروں میں داخل ہو کر کارروائی کس قانون کے تحت کی جا سکتی ہے؟

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ عوام کو حفاظتی اقدامات کے بارے میں مناسب آگاہی ہی نہیں دی گئی، اور سوال کیا کہ آیا اس حوالے سے شہر میں بینرز اور دیگر معلوماتی مواد آویزاں کیا گیا ہے یا نہیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ ان تمام نکات پر جواب الجواب جمع کروائیں۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے جامع اور تسلی بخش جواب طلب کر لیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]