پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر دی ڈپلومیٹ کی تعریف، امریکا سے تعلقات مضبوط

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دی ڈپلومیٹ: پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں بازی پلٹ دی، امریکا سے تعلقات نئی بلندیوں پر

بین الاقوامی امور کے معتبر جریدے ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی حکمتِ عملی کو غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل بساط میں ایک فیصلہ کن موڑ سے تعبیر کیا ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں پیدا ہونے والے بحران کو دانشمندی سے سنبھالا بلکہ اسے ایک بڑے سفارتی موقع میں تبدیل کر کے عالمی سطح پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو ازسرِنو منوایا۔

’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے تجزیے کے مطابق بھارت، جو طویل عرصے سے امریکا کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا تھا، حالیہ مہینوں میں غیر متوقع سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ خاص طور پر مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعے کے بعد امریکا کی جانب سے ثالثی کے دعوے کو نئی دہلی نے مسترد کر کے اسے اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور بھارت کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو گئے۔ اس ردِعمل نے واشنگٹن میں بھارتی قیادت کے حوالے سے شدید مایوسی کو جنم دیا، جس کا اظہار بعد ازاں پالیسی اور تجارتی فیصلوں میں بھی نظر آیا۔

جریدے کے مطابق اسی نازک مرحلے پر پاکستان نے نہایت بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے خطے میں امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کھلے دل سے سراہا۔ اس سفارتی لچک اور حقیقت پسندی نے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے نزدیک ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر پیش کیا۔

’’دی ڈپلومیٹ‘‘ لکھتا ہے کہ چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جانا ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ تھا، جسے عالمی مبصرین نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس کا دورہ اس عمل کا تسلسل تھا، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات نے ایک نئی سمت اختیار کی۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ہونے والی گفتگو محض سیکیورٹی معاملات تک محدود نہ رہی بلکہ اس کا دائرہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور طویل المدتی اقتصادی تعاون تک پھیل گیا۔ یہ پیش رفت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اب امریکا کے لیے صرف ایک سیکیورٹی پارٹنر نہیں بلکہ ایک اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے مطابق اس کے برعکس بھارت کو ثالثی کے دعوے کو خودمختاری کی توہین قرار دینے کی قیمت بھاری سفارتی نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ نہ تو بھارت کو QUAD سمٹ کی میزبانی ملی، نہ ہی امریکی صدر کا متوقع دورہ ممکن ہو سکا اور نہ ہی کسی قسم کا تجارتی ریلیف حاصل ہوا۔ بالآخر امریکا نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جسے عالمی تجارتی حلقوں میں ایک سخت اور غیر معمولی قدم سمجھا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی تعاون، جو ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک بنیادی ستون رہا ہے، ایک بار پھر بحال ہو گیا۔ جولائی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف میں کمی کا ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے قدرتی وسائل اور مختلف شعبہ جات میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے گئے۔

’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل اور گیس کے ذخائر کو ترقی دیں گے، جو پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ دسمبر 2025 میں پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے امریکی منظوری کا حصول بھی اسی اعتماد کی فضا کا مظہر تھا۔ اس اپ گریڈ پیکج کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی، جسے دفاعی ماہرین پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دے رہے ہیں۔

جریدے کے مطابق امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید کی، جسے اسلام آباد میں ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی تجدید پر زور دیتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ اسلام آباد متوازن اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی پر کاربند ہے۔

’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو علاقائی چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور سفارتی اثر و رسوخ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ اسلام آباد کی دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ سفارت کاری نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نہ صرف مضبوط بلکہ پائیدار بنیادوں پر استوار کیا۔ واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت، لچک اور بروقت فیصلوں نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو نمایاں کیا ہے۔

نتیجتاً، ’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کے مطابق جہاں پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور بااثر کردار کے طور پر ابھرا ہے، وہیں بھارتی قیادت نے امریکی ثالثی کو جھٹلا کر اپنے ملک کو سفارتی تنہائی، بھاری ٹیرف اور واشنگٹن کی ناراضی کے حوالے کر دیا۔ یہ تمام عوامل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں محض طاقت نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]