وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا سپریم کورٹ میں دھرنا، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تحفظات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ سپریم کورٹ میں دھرنا دے دیا۔ وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی صحت سے متعلق شدید تحفظات کے باعث سپریم کورٹ آئے ہیں اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے واضح جواب ملنے تک سپریم کورٹ کے احاطے میں ہی بیٹھے رہیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات ہوئی جو تقریباً 10 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے رجسٹرار کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تمام خدشات رکھ دیے ہیں، تاہم وہ چیف جسٹس کی جانب سے براہِ راست جواب ملنے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس دوران اطلاعات سامنے آئیں کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کیے بغیر سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جب علیل ہوئے تو جیل میں ان کا کوئی طبی معائنہ ضرور کیا گیا ہوگا، تاہم اس معائنے کی تفصیلات نہ تو اہل خانہ کو بتائی گئیں اور نہ ہی وکلا کو آگاہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال تک جا پہنچا لیکن اس تمام عرصے میں اہل خانہ کو لاعلم رکھا گیا، جو نہایت تشویشناک اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پانچ دن تک بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ سے انکار کیا اور بعد ازاں اچانک حقائق سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پمز ہسپتال میں ریٹینا کا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود ہی نہیں، ایسے میں آنکھ سے متعلق علاج یا آپریشن کیسے ممکن ہوا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کل بھی اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھے رہے اور آج چیف جسٹس سے ملاقات کی امید لے کر سپریم کورٹ آئے تھے۔ رجسٹرار سے ملاقات ضرور ہوئی ہے لیکن جب تک عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب نہیں آتا، وہ اور ان کے ساتھی سپریم کورٹ کے احاطے میں ہی موجود رہیں گے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پی ٹی آئی قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھ کے آپریشن کو دانستہ طور پر چھپایا، نہ ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اہل خانہ کو بروقت اعتماد میں لیا گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مزید الزام لگایا کہ نہ صرف انہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جو ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق رجسٹرار اور اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹر کو ملاقات کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ اصل طبی صورتحال سامنے آ سکے۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے آنکھ کے آپریشن کو خفیہ رکھا اور کل بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ان کے ذاتی معالج کو بھی روک دیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت مسلسل بانی پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا کہ اہل خانہ کی اجازت کے بغیر کسی قیدی کا آپریشن کرنا غیر قانونی ہے اور یہ اقدام آئین اور قانون دونوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات نہیں ہو سکی تاہم رجسٹرار کے سامنے تمام تحفظات تفصیل سے رکھ دیے گئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق اٹارنی جنرل کو بھی اس تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اٹارنی جنرل و رجسٹرار کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹر کو ملاقات کے لیے بھیجا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کیے بغیر ہی سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے، جس پر پی ٹی آئی قیادت نے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عدلیہ سے انصاف اور شفافیت کی توقع رکھتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام قبول نہیں کریں گے۔
پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق معلومات چھپانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے مکمل میڈیکل ریکارڈ کو سامنے لایا جائے، اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جائے اور ذاتی معالج کو فوری طور پر رسائی دی جائے۔
سپریم کورٹ میں دھرنے اور بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاست اور عدالتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

