پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کی 111 رنز سے شاندار فتح

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی محمد نواز پانچ وکٹیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لاہور میں گرین شرٹس کا طوفان، محمد نواز کی تباہ کن بولنگ، صائم ایوب اور بابر اعظم کی شاندار نصف سنچریاں

پاکستان کرکٹ ٹیم نے اتوار کے روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں آسٹریلیا کو 111 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر نہ صرف سیریز کا اختتام یادگار بنایا بلکہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل اپنی تیاریوں کا بھرپور اظہار بھی کر دیا۔ اس شاندار فتح میں صائم ایوب، بابر اعظم اور محمد نواز نے مرکزی کردار ادا کیے، جب کہ بولرز کی اجتماعی کارکردگی نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر بے بس کر دیا۔

207 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم صرف 16.5 اوورز میں 96 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ صورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ آخری بلے باز ایڈم زمپا کو بیٹنگ کے لیے میدان میں آنے کی بھی نوبت نہ آئی۔ یہ شکست ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں آسٹریلیا کی تیسری سب سے بڑی شکست کے طور پر ریکارڈ کی گئی۔

آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز ہی تباہ کن ثابت ہوا۔ پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے پہلے ہی اوور میں اپنی برق رفتار گیندوں سے دباؤ قائم کر دیا۔ اوور کی چوتھی گیند پر آسٹریلوی کپتان مچل مارش ایک شاندار ان سوئنگر کو سمجھنے میں ناکام رہے اور وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس وکٹ نے نہ صرف آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی بلکہ پاکستان کو ابتدائی برتری بھی دلوا دی۔

اس کے بعد میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور سستے انداز میں پویلین لوٹ گئے۔ محض 2.5 اوورز میں اسکور 16 رنز پر تین وکٹوں کے نقصان تک جا پہنچا، جس سے واضح ہو گیا کہ آسٹریلیا اس دباؤ سے نکلنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

اس نازک موقع پر کیمرون گرین اور مارکس اسٹوئنس نے چوتھی وکٹ کے لیے 44 رنز کی شراکت قائم کر کے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں بلے بازوں نے محتاط مگر پراعتماد انداز میں کھیلتے ہوئے اسکور کو 9.1 اوورز میں 60 تک پہنچایا، تاہم یہ شراکت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

محمد نواز نے ایک بار پھر اپنی افادیت ثابت کرتے ہوئے مارکس اسٹوئنس کو کلین بولڈ کر کے اس شراکت کا خاتمہ کر دیا۔ اسٹوئنس نے 22 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے، مگر ان کی وکٹ گرنے کے بعد آسٹریلوی اننگز مکمل طور پر بکھر گئی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے وکٹیں گرتی رہیں اور مہمان ٹیم کسی بھی مرحلے پر واپسی نہ کر سکی۔

محمد نواز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چار اوورز میں صرف 19 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔ شاہین شاہ آفریدی نے بھی اپنی رفتار اور سوئنگ سے متاثر کرتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں، جب کہ دیگر بولرز نے بھی لائن اور لینتھ میں نظم و ضبط برقرار رکھا۔

اس سے قبل پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز کا بڑا مجموعہ ترتیب دیا، جو پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کا سب سے بڑا اسکور ثابت ہوا۔ کپتان سلمان علی آغا کا پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر درست ثابت ہوا، حالانکہ آغاز میں ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اوپنر صاحبزادہ فرحان دوسرے ہی اوور میں 14 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد تیسرے نمبر پر خود کپتان سلمان علی آغا میدان میں آئے۔ تاہم وہ اپنی گزشتہ کارکردگی کو دہرانے میں ناکام رہے اور صرف تین گیندوں پر پانچ رنز بنا کر بین ڈوارشوئس کا شکار بن گئے۔ اس مرحلے پر پاکستان کا اسکور 3.4 اوورز میں 34 رنز پر دو وکٹیں تھا اور دباؤ واضح طور پر موجود تھا۔

یہاں تجربہ کار بلے باز بابر اعظم نے ذمہ داری سنبھالی اور نوجوان صائم ایوب کے ساتھ مل کر اننگز کو استحکام بخشا۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 69 رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی جس نے میچ کا رخ پاکستان کے حق میں موڑ دیا۔ صائم ایوب جارحانہ انداز میں کھیلے اور فیلڈ میں موجود خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

 

صائم ایوب نے 37 گیندوں پر چھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے شاندار 56 رنز اسکور کیے۔ وہ 12ویں اوور کی پہلی گیند پر میتھیو کوہنیمن کی گیند پر میتھیو رینشا کے ہاتھوں ایک شاندار کیچ کی بدولت آؤٹ ہوئے، تاہم اس وقت تک وہ ٹیم کو مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر چکے تھے۔

بابر اعظم نے ایک بار پھر اپنی کلاس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی، جب کہ بعد میں شاداب خان نے مختصر مگر برق رفتار اننگز کھیل کر اسکور کو 200 کے پار پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اننگز کے آخری اوورز میں تیز رفتار رنز نے آسٹریلیا پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔

مجموعی طور پر یہ میچ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک یادگار کامیابی ثابت ہوا، جس میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں مکمل ہم آہنگی نظر آئی۔ اس فتح نے نہ صرف سیریز کا شاندار اختتام کیا بلکہ آئندہ بڑے ایونٹس، خصوصاً ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل قومی ٹیم کے اعتماد کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]