وزیراعظم شہباز شریف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ملاقات، سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ملاقات سیکیورٹی صورتحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان اہم ملاقات

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان اسلام آباد میں ایک نہایت اہم اور بروقت ملاقات ہوئی، جس میں ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات، وفاق اور صوبے کے درمیان مالی معاملات، وادی تیراہ میں جاری آپریشن، مقامی آبادی کی مشکلات اور 8 فروری کو متوقع احتجاج جیسے حساس اور اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر منعقد ہوئی، جس کا مقصد خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر براہِ راست مشاورت اور وفاق و صوبے کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے، جنہوں نے داخلی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع خصوصاً سابقہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کی جان و مال کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے لیے فوری، مؤثر اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کا مقابلہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ملاقات میں وادی تیراہ میں جاری سیکیورٹی آپریشن پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مقامی افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی ہے، جنہیں خوراک، رہائش، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور امداد کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔

وزیراعظم نے اس مطالبے پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ آبادی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور وفاقی سطح پر متعلقہ اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر متاثرین کی بحالی، مالی امداد اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہے۔

ملاقات کے دوران وفاق کے ذمہ خیبر پختونخوا کے واجب الادا مالی معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے کو درپیش مالی مشکلات سے وزیراعظم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بقایاجات کی بروقت ادائیگی صوبے کی انتظامی اور سیکیورٹی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو ہدایات دینے کی یقین دہانی کرائی کہ واجبات کی ادائیگی کے طریقہ کار کو تیز کیا جائے گا۔

اسی طرح 8 فروری کو ممکنہ احتجاج کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جمہوری حق کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے، ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے یا عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ اور باہمی اعتماد ہی ملک کو درپیش سیکیورٹی، معاشی اور سیاسی چیلنجز کا واحد حل ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔

سیاسی و تجزیاتی حلقوں کے مطابق وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان یہ ملاقات نہ صرف سیکیورٹی کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے بلکہ یہ وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم بھی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں پالیسی سازی اور زمینی صورتحال پر نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]