غزہ بورڈ آف پیس کے پہلا اجلاس ٹرمپ کی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریف، پسندیدہ شخصیت قرار

ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے پہلا اجلاس خطاب کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

غزہ بورڈ آف پیس کے پہلا اجلاس ٹرمپ کی فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریف، پسندیدہ شخصیت قرار، 8 جنگیں رکوانے، پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں بھی کردار کرنے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن کے حوالے سے اہم دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب تک دنیا میں 8 بڑی جنگیں رکوا چکے ہیں، جن میں کچھ انتہائی پیچیدہ اور طویل عرصے سے جاری تنازعات بھی شامل تھے۔

ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلا اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور یہی فورم دنیا کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی پر بھی بیان

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر رہی تھی، تاہم انہوں نے سفارتی کوششوں کے ذریعے اسے کنٹرول کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بہت زیادہ تھا اور ایسے حالات میں مذاکرات کرانا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے، لیکن انہوں نے یہ ممکن بنایا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات
پاکستان اور یو اے ای قیادت کے درمیان سکیورٹی اور معاشی تعاون پر گفتگو

عالمی امن کے لیے اقدامات

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کچھ جنگیں 30 سے 35 سال تک جاری رہیں، جنہیں ختم کروانا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں اور اس مقصد کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان حالیہ امن معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں کی ایک بڑی مثال ہے۔

عالمی رہنماؤں کی شرکت

غزہ بورڈ آف پیس کا یہ اہم اجلاس مختلف ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی شرکت سے منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔

غزہ بورڈ آف پیس کے پہلا اجلاس کے دوران عالمی امن، سفارتی تعاون اور تنازعات کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان سے تعلقات پر اظہار خیال

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں اہم ہیں۔

غزہ میں امن کی کوششیں

ٹرمپ نے غزہ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ عالمی برادری کو اس خطے میں پائیدار امن کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس اس حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

امریکی صدر کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ان کے پاک بھارت کشیدگی سے متعلق دعوے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات سفارتی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں اور عالمی سیاست پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]