بلوچستان میں بلوچ خاندان پر حملہ: خواتین و بچوں سمیت بے گناہ افراد قتل

بلوچستان میں بلوچ خاندان پر حملہ کی جائے وقوعہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بلوچستان میں بلوچ خاندان پر حملہ، خواتین و بچوں سمیت بے گناہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا

بلوچستان کے ایک پُرامن علاقے میں پیش آنے والا افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پورے ملک کو سوگوار کر گیا ہے۔ تحصیل بلیدہ کے علاقے میناز میں دہشت گردوں کی جانب سے ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور کمسن بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے افراد موجود تھے۔ اس حملے میں مارٹر گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے بلوچستان میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے رات کے وقت گھر کو نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران گھر پر مارٹر گولہ داغا گیا جس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔ شدید حملے کے باعث گھر میں آگ بھڑک اٹھی اور مکینوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، جو اس واقعے کو مزید المناک بنا دیتا ہے۔ زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے فوراً بعد حرکت میں آگئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ مقامی آبادی نے بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے جو امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کا سانحہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ اس طرح کے حملے انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہیں اور ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردی کے ایسے واقعات معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے اور لوگوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش ہوتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

اس افسوسناک واقعے پر ملک کی سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی شدید ردعمل دیا ہے۔ سیکیورٹی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بولیدہ میناز میں پیش آنے والا یہ واقعہ کوئی جدوجہد نہیں بلکہ کھلی درندگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر نہ بلوچ روایات کا احترام کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی اقدار کو تسلیم کرتے ہیں۔ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی نظریے کی علامت نہیں بلکہ بزدلی اور شکست خوردہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عناصر جو نہتے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور گھروں کو قبرستان میں تبدیل کر دیتے ہیں، وہ کسی بھی طرح بلوچ شناخت کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے والے دراصل اپنے ہی لوگوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ علاقے کے بزرگوں اور قبائلی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ روایات میں معصوموں کو نقصان پہنچانا انتہائی قابل مذمت عمل سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ نہ صرف انسانیت بلکہ بلوچ ثقافت اور روایات کے بھی دشمن ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کا مقصد علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور عوام کو خوفزدہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون اس طرح کی سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اگر معاشرے کے تمام طبقات متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں تو ایسے عناصر کو شکست دینا ممکن ہے۔

یہ واقعہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آخر کب تک معصوم شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ نہتے لوگوں کو زندہ جلانا، خوف پھیلانا اور گھروں کو تباہ کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانیت کے قاتلوں کو بے نقاب کرنا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلوانا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایسے جرائم پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام سب مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے یقین دلایا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ جب تک معاشرہ متحد ہو کر ایسے عناصر کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا، اس وقت تک امن کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلیدہ میناز کا یہ واقعہ ایک المناک یاد دہانی ہے کہ معصوم جانوں کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جس سے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے اور خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]