فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، امن کوششوں پر پاکستان کو سراہا گیا
تہران: مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے دارالحکومت تہران میں اہم سفارتی ملاقاتیں کی ہیں، جہاں انہوں نے ایران کے سینئر مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سفارتی روابط اور ایران امریکا مذاکرات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ ان ملاقاتوں کو پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کردار کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک ہے۔
ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات تاریخی، گہرے اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، اور دونوں ممالک علاقائی امن کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر پاکستان کے کردار کو ایک مثبت اور تعمیری سفارتی اقدام کے طور پر سراہا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر بطور ثالث حیثیت بھی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر توجہ دی جا رہی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تہران میں ہونے والی یہ اہم ملاقاتیں خطے میں امن، استحکام اور سفارتی پیش رفت کے لیے ایک مثبت قدم ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید اہم نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

