اسلام آباد ٹریفک پولیس تبدیلی: محمد سرفراز ورک کو چیف ٹریفک آفیسر تعینات کر دیا گیا
وفاقی دارالحکومت Islamabad میں ٹریفک پولیس کی قیادت میں ایک اہم اور قابلِ توجہ تبدیلی عمل میں آئی ہے، جس کے تحت محمد سرفراز ورک کو چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری نہ صرف انتظامی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ شہر میں ٹریفک نظام کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کی ایک اہم کوشش بھی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ فیصلہ Syed Ali Nasir Rizvi (آئی جی اسلام آباد پولیس) کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی محمد سرفراز ورک کو سپیشل برانچ کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ اس دوہری ذمہ داری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ حکام ان کی انتظامی مہارت اور تجربے سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔
محمد سرفراز ورک کا شمار پولیس کے اُن افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اس سے قبل بطور ایس ایس پی ٹریفک بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے شہری ٹریفک کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور حل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ ایس پی ٹریفک کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں، جہاں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں ایک قابل اور متحرک افسر کے طور پر جانا گیا۔
اسلام آباد جیسے مصروف اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں ٹریفک مینجمنٹ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ روزانہ ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر آتی ہیں، جس کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ایک تجربہ کار افسر کی بطور سی ٹی او تعیناتی شہریوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ محمد سرفراز ورک اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے، قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔
دوسری جانب سابق چیف ٹریفک آفیسر Hamza Humayun (کیپٹن ریٹائرڈ) مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ کورس پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت اور صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حمزہ ہمایوں کے دور میں بھی ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے، جن کا مقصد شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور ٹریفک کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔
محمد سرفراز ورک کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد میں ٹریفک کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ اور شہری انفراسٹرکچر پر بڑھتا ہوا دباؤ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اس تناظر میں ان کی ذمہ داری نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ایک اسمارٹ ٹریفک سسٹم کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔
ایس ایس پی کیپٹن ر حمزہ ہمایوں کا چیف ٹریفک آفیسر کا چارج چھوڑنے پر اسلام آباد ٹریفک پولیس فیملی کے لئے الوداعی پیغام۔
شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ مثالی رکھتے ہوئے اپنی پبلک کے گارڈین اور خدمتگار بن کے فرائض سرانجام دیں۔ #WeRIslamabadPolice #Islamabad #ITP pic.twitter.com/EZjqB0w2GX
— Islamabad Police (@ICT_Police) March 27, 2026
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، شہریوں میں آگاہی پیدا کی جائے اور جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز کو متعارف کروایا جائے تو اسلام آباد میں ٹریفک کے مسائل کو بڑی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سی ٹی او کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور محمد سرفراز ورک کی تقرری کو اسی سمت میں ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، سپیشل برانچ کا اضافی چارج سنبھالنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، جس میں سیکیورٹی سے متعلق حساس امور، انٹیلیجنس معلومات کا تجزیہ اور دیگر اہم پہلو شامل ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد سرفراز ورک نہ صرف ٹریفک مینجمنٹ بلکہ سیکیورٹی معاملات میں بھی مہارت رکھتے ہیں، اور انہیں ایک ہمہ جہت افسر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شہریوں کی جانب سے بھی اس تقرری کو مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے سی ٹی او اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ خاص طور پر رش کے اوقات میں ٹریفک کے مسائل، غیر قانونی پارکنگ، اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جیسے مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ محمد سرفراز ورک کی بطور چیف ٹریفک آفیسر تعیناتی ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف ٹریفک کے نظام بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اسلام آباد کو ایک منظم، محفوظ اور جدید ٹریفک سسٹم فراہم کیا جا سکتا ہے، جو کسی بھی ترقی یافتہ شہر کی پہچان ہوتا ہے۔

