پاکستان ایران امریکا مذاکرات: فیلڈ مارشل عاصم منیر وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے

پاکستانی وفد تہران ایران امریکا مذاکرات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد تہران پہنچ گیا، ثالثی کوششیں تیز

تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے، جہاں وہ اہم سفارتی مشاورت میں حصہ لے گا۔ اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس وفد میں شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں پاکستان ایک فعال اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور سفارتی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور زیر بحث آئیں گے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی وفد ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے حوالے سے ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس حساس معاملے میں ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت پاکستانی وفد کی میزبانی کرتے ہوئے مذاکرات کے آئندہ مراحل پر تبادلہ خیال کرے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہے، جو اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے منعقد ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں نہایت مثبت اور بروقت اقدام سمجھی جا رہی ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی وفد کا ایران کا دورہ نہ صرف سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے بلکہ یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک سنجیدہ اور مؤثر کوشش بھی ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]