مکہ و مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کیلئے جدید کلینکس کا قیام، مفت ادویات اور 24 گھنٹے سروس
سعودی عرب حج طبی سہولیات کے تحت حکومتِ پاکستان نے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستانی عازمین حج کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جدید کلینکس کا قیام شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لاکھوں عازمین کو دورانِ حج بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
حکام کے مطابق مرحلہ وار منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 35 جدید کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں عازمین حج کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کلینکس میں نہ صرف عام بیماریوں کا علاج کیا جائے گا بلکہ ہنگامی طبی امداد بھی فوری طور پر فراہم کی جا سکے گی۔
ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو نے مکہ مکرمہ میں ایک کلینک کے دورے کے دوران بتایا کہ حکومت پاکستان عازمین حج کی ہر ممکن خدمت کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کلینکس میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کلینکس میں تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے جو 24 گھنٹے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر کلینک میں 3 سے 4 ایمبولینسز بھی موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
سعودی عرب حج طبی سہولیات کے حوالے سے عبدالوہاب سومرو نے بتایا کہ مدینہ منورہ کے مرکزیہ علاقے میں 2 ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ میں 35 ڈسپنسریاں فعال کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مدینہ کے مرکزیہ علاقے میں کم ڈسپنسریاں اس لیے رکھی گئی ہیں کیونکہ وہاں عازمین کی نقل و حرکت زیادہ ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق ان کلینکس میں آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (OPD) کے ذریعے اب تک 8 ہزار سے زائد اقسام کی ادویات مفت فراہم کی جا چکی ہیں۔ یہ سہولت عازمین کیلئے ایک بڑی راحت ہے، کیونکہ انہیں معمولی بیماریوں کیلئے بھی فوری اور مفت علاج میسر آ رہا ہے۔
اس کے علاوہ ان کلینکس میں جدید لیبارٹری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں جہاں 28 مختلف اقسام کے تشخیصی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹس کے ذریعے بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو رہی ہے، جس سے علاج کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق 18 اپریل سے شروع ہونے والے پری حج فلائٹ آپریشن کے بعد اب تک 20 ہزار سے زائد پاکستانی عازمین مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔ رواں سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 79 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی حج کی ادائیگی متوقع ہے، جس کے پیش نظر طبی سہولیات کا یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ماہرین کے مطابق حج کے دوران شدید گرمی، رش اور جسمانی مشقت کے باعث عازمین کو مختلف طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسے ہیٹ اسٹروک، تھکن اور سانس کے مسائل۔ ایسے میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔
سعودی عرب حج طبی سہولیات کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات نہ صرف عازمین کیلئے سہولت کا باعث ہیں بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حج آپریشن کے دوران عازمین کی نقل و حمل، رہائش اور دیگر انتظامات کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی بھی ایک اہم جزو ہے۔ اس لیے اس شعبے میں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عازمین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔
عازمین حج نے بھی حکومت کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہاں بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے ان کا حج کا سفر مزید آسان اور پر سکون ہو گیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ سعودی عرب حج طبی سہولیات کا یہ منصوبہ نہ صرف عازمین حج کیلئے ایک بڑی سہولت ہے بلکہ یہ حکومت پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کی خدمت کا ایک بہترین اقدام بھی ہے، جو مستقبل میں مزید بہتری کی راہ ہموار کرے گا۔


One Response