آبنائے ہرمز: ٹرمپ نے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روک دیا، معاہدے کی راہ ہموار، ایران سے ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار
واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جاری “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر کے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے کو ایران کے ساتھ ممکنہ تاریخی معاہدے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواست اور حالیہ فوجی کارروائیوں میں کامیابی کے بعد کیا گیا۔ ان کے مطابق ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رہے گی، تاہم تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے شروع کیے گئے “پروجیکٹ فریڈم” کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آئندہ چند دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ اس تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔
“We have mutually agreed that, while the Blockade will remain in full force and effect, Project Freedom (The Movement of Ships through the Strait of Hormuz) will be paused for a short period of time to see whether or not the Agreement can be finalized and signed…” - President… pic.twitter.com/R9SlC4w68g
— The White House (@WhiteHouse) May 5, 2026