آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری: پیٹرول، بجلی اور گیس قیمتوں سے متعلق بڑی شرط سامنے آگئی

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے بعد معاشی صورتحال کی نمائندہ تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کی قسط منظور، آئی ایم ایف نے مہنگائی اور توانائی قیمتوں پر اہم شرائط عائد کردیں

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے بعد پاکستان کی معاشی پالیسیوں، توانائی قیمتوں اور مہنگائی کے حوالے سے اہم شرائط سامنے آگئی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کیلئے 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی مقامی قیمتوں کو اصل لاگت کے مطابق برقرار رکھنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ حکومت کو کمزور اور غریب طبقے کیلئے ہدفی امداد فراہم کرنا ہوگی تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

‫آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت دوسرے جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور 22 کروڑ ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں گے۔‬

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں، جو ملکی معیشت کیلئے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ اشیائے ضروریہ کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے ماحول میں پاکستان کو توانائی کی مقامی قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنا ہوں گی تاکہ توانائی کے شعبے کی مالی حالت مستحکم رہ سکے۔

ادارے کے مطابق پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے سے مالی خسارہ بڑھتا ہے، اس لیے حکومت کو اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے ساتھ عالمی مالیاتی ادارے نے یہ بھی کہا کہ کمزور طبقے کو ہدفی سبسڈی اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 2027 میں جی ڈی پی گروتھ 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ 2026 میں بنیادی بجٹ سرپلس جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری وقتی طور پر معیشت کیلئے مثبت خبر ہے کیونکہ اس سے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مزید مضبوط کرے، سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرے اور کاروباری ماحول میں غیر ضروری رکاوٹوں اور ضوابط کو ختم کرے۔

ادارے کے مطابق ساختیاتی اصلاحات کے بغیر پاکستان پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس ضمن میں توانائی کے شعبے میں اخراجات میں کمی اور نااہلیوں کے خاتمے کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے بعد حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کو قابو میں رکھنا ہوگا، کیونکہ تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پہلے ہی شدید متاثر ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستانی حکام نے اصلاحاتی پروگرام پر مضبوطی سے عملدرآمد جاری رکھا، جس کے باعث معاشی استحکام برقرار رہا۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے اثرات اس بات کی اہمیت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ پاکستان مضبوط معاشی پالیسیوں کو جاری رکھے اور اصلاحات کے عمل کو تیز کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھتی ہے تو اس سے معیشت میں استحکام آسکتا ہے، تاہم عوامی سطح پر مہنگائی اور بجلی و گیس کے بلوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رہے گا۔

آئی ایم ایف پاکستان قسط منظوری کے تناظر میں اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک متوازن حکمت عملی اپنائے تاکہ معاشی استحکام کے ساتھ عوام کو بھی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

پالیسی ترجیحات میں مالیاتی نظم و ضبط، سماجی تحفظ، توانائی اصلاحات، انسانی وسائل کی بہتری، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا شامل ہیں۔

آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام مختصر مدت میں مالی سہارا ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن طویل مدتی ترقی کیلئے مقامی سطح پر معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]