28ویں آئینی ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی، بجٹ پیپلز پارٹی کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 28ویں آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت : 28ویں آئینی ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی، بجٹ پیپلز پارٹی کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق ابھی تک کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی، اور جب تک کوئی معاملہ سامنے نہیں آتا وہ اس پر ردعمل نہیں دے سکتے۔

اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہیں۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ تو آئینی ترمیم منظور ہو سکتی ہے اور نہ ہی بجٹ پاس کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ بات نہیں ہوئی۔

شاہد آفریدی ہلال امتیاز ایوارڈ وصول کرتے ہوئے
صدر مملکت سے ہلال امتیاز وصول کرنے کے بعد شاہد آفریدی کا قوم کے نام پیغام

انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے خود بات کی تھی، تاہم 28ویں آئینی ترمیم پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ردعمل تب ہی دیا جا سکتا ہے جب کوئی سرکاری یا باضابطہ تجویز سامنے آئے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے ملکی خارجہ پالیسی اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی سطح پر امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد وزیراعظم نے انہیں امن کمیٹی کی سربراہی دی، اور انہوں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارتی بیانیے کو مؤثر طریقے سے جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر بہتر انداز میں پیش کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں اور حالیہ دفاعی معاہدوں نے ان تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران، سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے آزادانہ اور متوازن تعلقات ہیں۔

معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو اس وقت شدید مالی مشکلات اور مہنگائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ عوام کے لیے مزید چیلنجز لے کر آ سکتا ہے، اس لیے حکومت کو ریلیف پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت پر تنقید نہیں کی جائے گی کیونکہ قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے بعض عوامی ریلیف اقدامات کو سراہا جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی، خطے کی جنگوں اور اب مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا سامنا کیا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]