ایف بی آر کو سرکاری افسران کے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا اختیار ملنے کا فیصلہ

ایف بی آر اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی ڈیجیٹل نگرانی سے متعلق نمائشی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

AI سسٹم سے سرکاری افسران کے اثاثوں کی نگرانی، ایف بی آر کو نئے اختیارات

‫ایف بی آر تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے اور سرکاری افسران کے مالی معاملات میں شفافیت لانے کیلئے حکومت نے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے مجوزہ نظام کے تحت Federal Board of Revenue کو ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کا اختیار دیا جائے گا جن کے اثاثے ان کے جائز ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں گے۔‬

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کے دوران سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے ارکان پارلیمنٹ کو اس نئے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی AI پر مبنی نگرانی کا جدید نظام تیار کیا جا رہا ہے جو سرکاری افسران کی دولت، جائیداد اور دیگر اثاثوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں خودکار طور پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔

وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے اجلاس کے دوران بتایا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک نئے ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی سطح پر دستیاب کر دیا جائے گا۔

‫حکام کے مطابق یہ جدید سسٹم Federal Board of Revenue کے مشورے سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف اداروں کے مالیاتی ریکارڈ کو باہم منسلک کیا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری شعبے میں احتساب، شفافیت اور مالی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔‬

مجوزہ نظام کے تحت سرکاری افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثوں بلکہ اپنے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کرانا ہوں گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک دوروں، غیر ملکی سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات کی معلومات بھی فراہم کرنا لازمی قرار دی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق AI پر مبنی یہ نظام افسران کے اثاثہ جات، جائیداد، بینک اکاؤنٹس، گاڑیوں اور دیگر مالی ریکارڈ کا خودکار تجزیہ کرے گا۔ اگر کسی افسر کے اثاثوں میں اچانک یا غیر معمولی اضافہ سامنے آیا تو سسٹم فوری طور پر متعلقہ حکام کو الرٹ جاری کرے گا۔

حکام نے بتایا کہ ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت اعلیٰ افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ AI سسٹم سے موصول ہونے والے الرٹس کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر سکیں۔ اگر کسی افسر کے اثاثے اس کی آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو مزید جانچ پڑتال کی جا سکے گی۔

قانونی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں احتسابی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مالی نگرانی اور کرپشن کی نشاندہی کیلئے ایسے سسٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران کے اثاثوں کو عوامی سطح پر لانے سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور عوام کا اعتماد بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے دوران ڈیٹا پرائیویسی اور غلط الرٹس جیسے مسائل پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہوگی۔

سیاسی حلقوں میں بھی اس مجوزہ نظام پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض تجزیہ کار اسے بدعنوانی کے خلاف اہم قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اس سسٹم کے مؤثر استعمال کیلئے مضبوط قانونی فریم ورک اور غیر جانبدارانہ نگرانی ناگزیر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق حکومت اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرے گی اور ابتدا میں گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کو اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔ بعد ازاں اس دائرہ کار کو مزید وسیع کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام، سرکاری شفافیت اور احتساب کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ AI پر مبنی نگرانی سے نہ صرف غیر قانونی اثاثوں کی نشاندہی آسان ہوگی بلکہ مالی بدعنوانی کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض سرکاری حلقوں نے اس نظام کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر مزید غور کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افسران کے مالی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کیلئے مضبوط سائبر سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہوں گے تاکہ حساس معلومات کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔

حکومت کے اس نئے منصوبے کو پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس، مالی شفافیت اور احتسابی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو مستقبل میں سرکاری افسران کے مالی معاملات کی نگرانی کا طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]