سونے کی قیمت میں عالمی منڈی میں بڑی کمی، فی اونس گولڈ 4619 ڈالر تک گر گیا

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی کے بعد گولڈ بارز کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز کمی

سونے کی قیمت عالمی منڈی میں ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور جمعہ کے روز گولڈ مارکیٹ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی کے خدشات، مضبوط امریکی ڈالر اور شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کی توقعات نے سونے کی قیمتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ مسلسل چوتھے سیشن میں کمی کا شکار رہا اور 0.6 فیصد گراوٹ کے بعد 4,619 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا، جو 6 مئی کے بعد کم ترین سطح تصور کی جا رہی ہے۔ رواں ہفتے کے دوران سونے کی مجموعی قیمت میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.3 فیصد کمی کے بعد 4,624 ڈالر فی اونس تک آ گئے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ Brent Crude Oil کی قیمت اس ہفتے 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی، جس کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں عالمی مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی بانڈ ییلڈز اور ڈالر کی قدر مضبوط ہوئی ہے۔ اس ہفتے امریکی ڈالر انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن جب شرح سود بلند ہو تو سونے کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری کمی کی امیدیں کمزور ہونے سے گولڈ مارکیٹ دباؤ میں آ گئی ہے۔

اقتصادی رپورٹس کے مطابق امریکا میں حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار نے ظاہر کیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی لاگت دیگر اشیا اور خدمات کی قیمتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ Federal Reserve System شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان ممکنہ رابطوں پر سرمایہ کار گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور چین کے تعلقات میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف دہراتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ امریکا کا صبر ختم ہو رہا ہے۔ اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات عالمی تیل اور سونے کی مارکیٹ پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکا ایران کشیدگی کے بعد سونے کی قیمتوں میں تقریباً 13 فیصد کمی آ چکی ہے۔ ابتدا میں جغرافیائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار سونے کی جانب راغب ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں مضبوط ڈالر اور بلند شرح سود کے خدشات نے مارکیٹ کا رخ تبدیل کر دیا۔

دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی 2.5 فیصد کمی کے بعد 81.41 ڈالر فی اونس پر آ گئی جبکہ پلاٹینم 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 2,020 ڈالر فی اونس تک گر گیا۔ اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی 0.8 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 1,425 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف مہنگائی اور جغرافیائی کشیدگی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف دھکیل رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بلند شرح سود اور مضبوط ڈالر گولڈ مارکیٹ پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی صرافہ مارکیٹیں بھی عالمی رجحانات سے متاثر ہو رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کئی ممالک میں مقامی کرنسی کی کمزوری کے باعث سونے کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا اور امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود بلند رکھی تو سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم اگر جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار دوبارہ سونے کی خریداری بڑھا سکتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اچانک تیزی بھی آسکتی ہے۔

سرمایہ کار اس وقت عالمی اقتصادی اعداد و شمار، امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کے رخ کا تعین کریں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ آنے والے ہفتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]