شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا اعلان

شہباز شریف چینی کاروباری وفد سے ملاقات کے دوران
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چینی کمپنی آئی بی آئی کا پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا فیصلہ

‫ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کے قیام کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی IBI Beijing United Technology کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاو جون کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطح وفد نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔‬

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی اشتراک کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور پاکستان و چین کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات کو دونوں ممالک کیلئے اہم قرار دیا۔

وزیراعظم نے Xi Jinping کی قیادت میں چین کی معاشی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے دنیا میں اقتصادی ترقی کی نئی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اپنے دورۂ چین کے منتظر ہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے نئے معاہدوں پر پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ چینی کمپنی آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، جدید ٹیکنالوجی، ای کامرس اور صنعتی ترقی کیلئے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔

ملاقات میں چینی وفد کے سربراہ چیان شیاو جون نے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی آئی گروپ پاکستان میں ڈیجیٹل اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور تکنیکی تعاون کو نئی جہت دے گا۔

چیان شیاو جون کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی SMEs کو چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباروں کیلئے چینی مارکیٹ میں داخلے کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور آئی بی آئی اس حوالے سے ایک پل کا کردار ادا کرے گی۔

چینی وفد نے پاکستان میں آئی ٹی، ای کامرس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے میں نمایاں ترقی متوقع ہے۔

یہ وفد وزیراعظم شہباز شریف کے ستمبر 2025 میں بیجنگ کے دورے کے دوران منعقد ہونے والی پاکستان چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان آیا ہے۔ اس کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ملاقات میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاون خصوصی ہارون اختر اور طارق فاطمی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

معاشی ماہرین کے مطابق چین کی بڑی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری نہ صرف ملکی معیشت کیلئے مثبت اشارہ ہے بلکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ خاص طور پر ڈیجیٹل اکانومی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کو خطے میں ایک اہم مارکیٹ کے طور پر ابھار سکتی ہے۔

‫تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی China-Pakistan Economic Corridor کے بعد اب دونوں ممالک کے تعلقات ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ممکن ہو سکے گی۔‬

کاروباری حلقوں نے چینی وفد کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو برقرار رکھتی ہے تو پاکستان خطے میں ایک اہم ڈیجیٹل حب بن سکتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان حالیہ ملاقات اور سرمایہ کاری مذاکرات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور مستقبل میں ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید اہم معاہدے متوقع ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]