اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہو سکی، اہلِ خانہ اور رہنما واپس

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن خالی، علیمہ خان کا تین گھنٹے احتجاج

اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کا دن ایک بار پھر بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا، جب آج بھی پارٹی رہنماؤں، وکلا اور اہلِ خانہ میں سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ مسلسل کوششوں اور طے شدہ شیڈول کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونا نہ صرف پارٹی قیادت بلکہ کارکنان اور عوام کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پارٹی کے اہم رہنما اور قانونی ٹیم کے مرکزی اراکین، جن میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ اور نعیم پنچوتہ شامل تھے، آج اڈیالہ جیل پہنچے۔ ان کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان بھی ملاقات کی امید لیے جیل کے باہر موجود رہیں۔ تاہم طویل انتظار اور متعدد بار حکام سے رابطے کے باوجود کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے اور پیشگی اطلاع بھی دی جا چکی تھی، اس کے باوجود جیل انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح وجہ بتائے بغیر ملاقات کی اجازت روک لی گئی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین اور قانون کے تحت قیدی کو اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کے حق سے محروم کرنا بھی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تین گھنٹے سے زائد وقت تک اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہیں، مگر انتظامیہ نے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم پرامن طریقے سے اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آئے تھے، لیکن ہمیں مسلسل روکا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ ملاقات کیوں ممکن نہیں۔‘‘

علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک ملاقات کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم کوشش محسوس ہوتی ہے جس کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو تنہا اور پارٹی قیادت سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مختلف رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔

ادھر پارٹی رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ نے بھی ملاقات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی مشاورت اور زیر سماعت مقدمات کے حوالے سے اہم امور پر بات چیت کے لیے آئے تھے، مگر انہیں اندر جانے کی اجازت نہ دینا عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالتوں میں اٹھایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ ملاقات کی فوری اجازت دی جائے۔ تاہم تین گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہونے پر وہ احتجاج ختم کر کے اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مسلسل ملاقاتوں کا نہ ہونا ایک سنگین سیاسی اور قانونی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی زیر حراست سیاسی رہنما کو اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات سے روکنا نہ صرف غیر معمولی اقدام ہے بلکہ اس سے ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامیوں میں بھی اس صورتحال پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین اسے سیاسی انتقام اور دباؤ کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔ کئی کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے قانونی اور انسانی حقوق دیے جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار ملاقاتوں کا شیڈول طے ہونے کے باوجود آخری وقت میں اجازت منسوخ کی جا چکی ہے، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

دوسری جانب جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باقاعدہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث ابہام مزید بڑھ گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شفافیت اور قانون کی بالادستی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملاقات نہ ہونے کی وجوہات واضح طور پر بتائی جائیں۔

مجموعی طور پر اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا ایک اور دن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جانا ملک کے سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مجموعی جمہوری عمل کے لیے بھی ایک اہم سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے کہ آیا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر بنیادی حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]