عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے روک دیا
اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 9 مئی کے واقعات سمیت متعدد مقدمات کی سماعت ایسے موقع پر ہوئی جب مختلف عدالتوں میں ان کے خلاف درجنوں مقدمات زیرِ التواء ہیں اور ان کی حاضری، گرفتاری اور ضمانت سے متعلق قانونی کارروائیاں کئی ہفتوں سے تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والی سماعت میں عدالت نے ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے نہ صرف بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے 9 مئی سمیت دیگر پانچ مقدمات میں روک دیا بلکہ اگلی سماعت پر انہیں عدالت میں ذاتی حیثیت میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
یہ سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کی نمائندگی سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ اور زاہد شبیر ڈار نے کی۔ پیشی کے آغاز میں وکلائے صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل اس وقت مختلف وجوہات کے باعث عدالت میں حاضری سے قاصر ہیں، تاہم وہ عدالت کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی عدم دستیابی کے پیشِ نظر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر بحث آئندہ سماعت تک مؤخر کی جائے۔
گرفتاری سے روکنے کا عدالتی حکم
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایسا حکم نامہ جاری کیا جس کا ان تمام مقدمات پر براہِ راست اثر پڑتا ہے جن میں بانی پی ٹی آئی کی فوری گرفتاری کا خدشہ موجود تھا۔ جج نے حکم دیا کہ 9 مئی کے مرکزی کیس سمیت دیگر 5 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو 23 دسمبر تک گرفتار نہ کیا جائے۔ یہ حفاظتی نوعیت کا حکم اُن مقدمات سے متعلق تھا جن میں تفتیشی حکام کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔
اسی حکم کا اطلاق سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی پر بھی ہوا جن کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کرانے کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے انہیں بھی 23 دسمبر تک گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کر دی۔ عدالتی فیصلے کے بعد قانونی ماہرین نے کہا کہ یہ حکم بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہیں مزید ایک ماہ تک گرفتاری سے مکمل آزادی حاصل رہے گی، جس کے دوران وہ اپنے خلاف کیسز میں قانونی حکمتِ عملی کو بہتر انداز میں ترتیب دے سکتے ہیں۔
ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی ہدایت
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث آئندہ سماعت کے لیے ایک اہم ہدایت بھی جاری کی۔ جج محمد افضل مجوکہ نے کہا کہ 23 دسمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کو یا تو عدالت میں ذاتی طور پر پیش کیا جائے یا انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس ہدایت کا مقصد عدالتی کارروائی میں پیش رفت کو یقینی بنانا اور ضمانت کی درخواستوں پر حتمی دلائل سننا ہے۔
عدالت کے مطابق چونکہ درخواست گزار کی موجودگی کے بغیر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر دلائل ممکن نہیں، اس لیے آئندہ سماعت پر ان کی موجودگی ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مزید تاخیر سے عدالتی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے ویڈیو لنک کے ذریعہ پیشی کی اجازت دے کر عدالت نے ایک موزوں حل پیش کیا ہے۔
دلائل میں تاخیر اور سماعت ملتوی
اس سماعت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی غیرحاضری کے باعث وکلائے صفائی ضمانت کی درخواستوں پر دلائل نہیں دے سکے۔ فاضل جج نے کہا کہ جب تک درخواست گزار خود موجود نہ ہوں، عدالت کے لیے قانونی تقاضوں کے مطابق ضمانت کے معاملات آگے بڑھانا مشکل ہے۔ لہٰذا عدالت نے یہ قرار دیتے ہوئے کہ درخواست گزار کو مناسب موقع فراہم کرنا ضروری ہے، سماعت کو 23 دسمبر تک ملتوی کر دیا۔
عدالت نے تفتیشی افسران کو بھی ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مقدمات سے متعلق تفتیش کی تازہ ترین رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے تاکہ کیس کے حقائق کو مکمل طور پر عدالت کے سامنے رکھا جاسکے۔
زیرِ سماعت مقدمات کی نوعیت
بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات میں مختلف نوعیت کے الزامات شامل ہیں، جن میں:
9 مئی کے واقعات
یہ مقدمات اُن پُرتشدد احتجاجی کارروائیوں سے متعلق ہیں جو سابق وزیراعظم کی گرفتاری کے بعد مختلف شہروں میں پیش آئیں اور جن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور حساس تنصیبات پر حملوں کے الزامات شامل ہیں۔
اقدام قتل کا مقدمہ
اس مقدمے میں الزام ہے کہ ایک سیاسی جلسے کے دوران یا اس کے بعد ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی جو اقدامِ قتل کے زمرے میں آتی ہے۔ اس مقدمے کی بھی مختلف عدالتوں میں کارروائی جاری ہے۔
مبینہ جعلی رسیدوں کا کیس
یہ مقدمہ مالی بے ضابطگیوں اور انتخابات سے متعلق فنڈز کے مبینہ غلط اندراجات سے متعلق ہے۔ اس کیس میں بشریٰ بی بی بھی نامزد ہیں۔ ان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے ایسے مالیاتی دستاویزات جمع کرائیں جو مبینہ طور پر جعلی قرار دی گئیں۔
مختلف مقدمات میں قانونی ٹیم مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ ان کیسز میں ان کے مؤکلین پر لگائے گئے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں، جبکہ استغاثہ اس کے برعکس انہیں سنگین نوعیت کے جرائم سے تعبیر کرتا ہے۔ انہی متضاد مؤقف نے عدالتوں میں کارروائی کو طول بھی دیا ہے اور ہر سماعت پر نئے قانونی نکات سامنے آتے رہتے ہیں۔
آئندہ کی قانونی صورتحال
23 دسمبر کی سماعت اس لحاظ سے نہایت اہم ہوگی کہ عدالت اس روز نہ صرف ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے امکانات رکھتی ہے بلکہ ویڈیو لنک یا ذاتی پیشی کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں مقدمات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر بانی پی ٹی آئی عدالت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پیش ہو جاتے ہیں تو ضمانت میں مزید توسیع کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ پیشی سے دوبارہ استثنیٰ مانگتے ہیں تو عدالت سخت رویہ بھی اپنا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ عدالتی کارروائی پاکستان کی موجودہ سیاسی و قانونی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کا حجم اور ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر سماعت ملک بھر میں سیاسی بحث و گفتگو کا حصہ بنتی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر گرفتاری سے روک کر ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جس میں فریقین باقاعدہ دلائل کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ آئندہ سماعت اس سلسلے میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔


One Response