بجلی صارفین پر مزید بوجھ: مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے نئی آزمائش
ملک میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، ایسے میں بجلی صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی خبر نے لوگوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجلی کے صارفین سے مزید رقم وصول کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس کے تحت فی یونٹ 9 روپے مارکیٹ آپریشن فیس عائد کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے نیپرا میں جمع کروائی گئی ہے، جس پر سماعت 23 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
مارکیٹ آپریشن فیس کیا ہے؟
عام صارفین کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی آتا ہے کہ آخر یہ مارکیٹ آپریشن فیس ہے کیا؟
ماہرین کے مطابق یہ فیس بجلی کی خرید و فروخت، پاور مارکیٹ کے انتظامی اخراجات اور سسٹم آپریشن کو چلانے کے نام پر وصول کی جاتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا براہِ راست اثر بجلی صارفین پر مزید بوجھ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
یہ فیس بجلی کے بل میں شامل ہو کر صارفین سے وصول کی جاتی ہے، یعنی عوام کو ایک اور اضافی مد میں ادائیگی کرنا پڑے گی۔
بجلی کے بل پہلے ہی کیوں ناقابل برداشت ہیں؟
ملک بھر میں بجلی کے صارفین پہلے ہی:
بنیادی ٹیرف
فیول ایڈجسٹمنٹ
ٹیکسز
سرچارجز
جیسے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اب بجلی صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کے اس نئے فیصلے نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔
ایک عام شہری کا کہنا تھا:
“بل آتا ہے تو پہلے دل بیٹھ جاتا ہے، اب لگتا ہے بجلی رکھنا بھی عیاشی بن چکی ہے۔”
نیپرا میں سماعت، فیصلہ عوام کے حق میں ہوگا؟
ذرائع کے مطابق اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتا ہے تو:
تمام ڈسکوز اس فیس کی ادائیگی کی پابند ہوں گی
یہ رقم براہِ راست صارفین سے وصول کی جائے گی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسی درخواستوں کی منظوری سے بجلی صارفین پر مزید بوجھ پڑتا رہا ہے، اس لیے عوام کو کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں۔
عوامی ردِعمل: غصہ، مایوسی اور بے بسی
سوشل میڈیا پر صارفین شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
کسی نے لکھا:
“تنخواہ وہی، بل دگنا، آخر عوام کہاں جائیں؟”
کسی نے کہا:
“یہ بجلی نہیں، سزا ہے جو ہر ماہ ملتی ہے۔”
یہ ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی صارفین پر مزید بوجھ عوام کے صبر کا امتحان بن چکا ہے۔
معیشت پر اثرات
معاشی ماہرین کے مطابق بجلی مہنگی ہونے سے:
صنعت متاثر ہوتی ہے
مہنگائی مزید بڑھتی ہے
بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے
یعنی بجلی صارفین پر مزید بوجھ صرف گھریلو نہیں بلکہ قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
گھریلو صارفین سب سے زیادہ متاثر
دیہاڑی دار، ریٹائرڈ افراد اور کم آمدن والے گھرانوں کے لیے:
بجلی کا بل
گیس کا خرچ
روزمرہ مہنگائی
ایک ساتھ برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
ایک بزرگ خاتون کا کہنا تھا:
“دو وقت کی روٹی لیں یا بل دیں؟”
حکومت سے سوال
عوام یہ سوال کر رہے ہیں:
کیا مہنگائی کا سارا بوجھ عوام نے ہی اٹھانا ہے؟
کیا حکومتی اخراجات کم نہیں ہو سکتے؟
کیا بجلی کے نظام میں اصلاحات ممکن نہیں؟
جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ملتے، بجلی صارفین پر مزید بوجھ عوامی غصے کو مزید بڑھاتا رہے گا۔
نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی کر دی، صارفین کو ریلیف
نتیجہ
ملک اس وقت توانائی بحران، مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
ایسے میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا فیصلہ عوام کے لیے ایک اور کڑوی حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔
اگر فوری اصلاحات اور شفاف فیصلے نہ کیے گئے تو بجلی صارفین پر مزید بوجھ سماجی اور معاشی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔