اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، مشکلات کا شکار ہیں: عباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس

ایرانی وزیر خارجہعباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس ایران امریکا مذاکرات پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، مشکلات کا شکار ہیں: عباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے، تاہم یہ عمل اس وقت مشکلات اور عدم اعتماد کا شکار ہے۔

نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ صرف اپنا دفاع کیا ہے، اور تہران جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں، بلکہ یہ صورتحال ان ممالک کی وجہ سے پیدا ہوئی جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل تھے۔ ان کے مطابق کئی بھارتی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ایرانی حکام نے رہنمائی فراہم کی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور بعض مقامات پر بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باعث جہازوں کو ایرانی بحریہ سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

چین ایران جنگ پر موئقف عالمی سیاسی کشیدگی
چین نے ایران تنازع پر مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دے دیا

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران صرف اسی صورت مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب دوسرا فریق سنجیدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکا پر مکمل اعتماد نہیں اور موجودہ مذاکراتی عمل میں اعتماد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

عباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ حکمت اور سفارتکاری آخرکار کامیاب ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور 2015 کے معاہدے میں یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

روس کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے عباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس کہا کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری موجود ہے اور دونوں ممالک بین الاقوامی و علاقائی معاملات پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روس کی جانب سے یورینیم افزودگی کی منتقلی کی پیشکش پر ایران شکر گزار ہے، تاہم فی الحال اس تجویز پر غور نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق یورینیم افزودگی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک موجود ہے۔

عباس عراقچی کی بھارت میں پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور امریکا متحدہ عرب امارات کی حفاظت میں ناکام رہے، جبکہ ایران نے یو اے ای میں صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کی ثالثی سے متعلق سوال پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکراتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑی رکاوٹ امریکا کا رویہ اور دونوں ممالک کے درمیان موجود عدم اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس ملک کی کوشش کو سراہتا ہے جو خطے میں امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]