انمول عرف پنکی نیٹ ورک میں افریقی شہری شامل، 6 غیر ملکی ملوث ہونے کا انکشاف

انمول عرف پنکی منشیات کیس میں پولیس پریس کانفرنس کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

انمول عرف پنکی کیس: نیٹ ورک میں افریقہ کے 6 افراد بھی شامل ہونے کا انکشاف

انمول عرف پنکی نیٹ ورک کیس میں ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق منشیات اسمگلنگ اور فروخت کے نیٹ ورک میں افریقہ سے تعلق رکھنے والے 6 غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں۔ یہ انکشاف ایڈیشنل آئی جی کراچی Ameer Khan (Azad Khan) نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

پولیس کے مطابق منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک کی تحقیقات مزید وسیع کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے مختلف اداروں کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس نیٹ ورک میں نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح کے عناصر بھی ملوث ہیں، جو اس کیس کو انتہائی حساس بنا دیتے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کے مطابق سچل کے علاقے میں ملزمہ کے پرانے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مزید منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کی سپلائی بیرون ملک سے پاکستان میں کی جاتی تھی اور اس نیٹ ورک میں افریقہ سے تعلق رکھنے والے 6 افراد بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں شامل خواتین کے لاہور میں موجود ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں جبکہ مرکزی ملزمہ مختلف اوقات میں پنجاب میں بھی موجود رہی ہے۔ اس پورے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو ٹریس کرنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے اس کیس میں Federal Investigation Agency اور National Cyber Crime Investigation Agency سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ ڈیجیٹل شواہد اور مالی لین دین کی مکمل جانچ کی جا سکے۔ حکام کے مطابق آن لائن ٹرانزیکشنز اور سوشل میڈیا رابطوں کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس سے منسلک تمام مشتبہ افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے کی سفارش کی جائے گی تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔ حکام کے مطابق نیٹ ورک کے مالی ذرائع، رابطوں اور بیرون ملک روابط کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ اس کیس پر سوشل میڈیا پر غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جس میں بعض عناصر نے پولیس کارروائی کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق بعض حلقوں نے ایک ایسے کردار کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جو مبینہ طور پر سنگین جرائم میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس پر تنقید اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن کسی بھی قانونی کارروائی میں کردار کشی یا غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حساس کیس ہے جس میں نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے، اس لیے احتیاط کے ساتھ تفتیش جاری رکھنا ضروری ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا کہ بعض صحافیوں کے پاس کیس سے متعلق معلومات موجود تھیں لیکن انہوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں شائع نہیں کیا، جو قابل تحسین ہے۔ ان کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

پولیس ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کیس میں اب تک کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک ہے جو مختلف ممالک کے ذریعے پاکستان میں سرگرم تھا۔ اس نیٹ ورک کی مالی اور لاجسٹک سپورٹ کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اس نیٹ ورک میں واقعی غیر ملکی عناصر شامل ہیں تو یہ کیس بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے کیسز میں مختلف ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مشترکہ کارروائیاں کرتی ہیں تاکہ اسمگلنگ کے مکمل نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے۔

دوسری جانب شہری حلقوں نے اس کیس میں ہونے والی پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اگر غیر ملکی یا مقامی کوئی بھی شخص ملوث ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ منشیات نوجوان نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے جس کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]