
پاکستان کی1 ٹریلین ڈالر معیشت: کیا یہ ممکن ہے؟
پاکستان کی ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2035 تک یہ ہدف ممکن ہے، بشرطیکہ اے آئی اور ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے۔

پاکستان کی ایک ٹریلین ڈالر معیشت کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2035 تک یہ ہدف ممکن ہے، بشرطیکہ اے آئی اور ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے۔

کراچی میں ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں 50 روپے فی کلو اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے یکم اکتوبر تک نرخ مقرر نہ کیے تو کاروبار بند کرنے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

دو دن کی کمی کے بعد سونے کی قیمت ایک بار پھر بڑھ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس 19 ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں فی تولہ سونا 1900 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 97 ہزار 700 روپے کا ہو گیا۔

وزیر اعظم کے خلیجی ممالک کے دورے اور بجلی کے سرکلر ڈیٹ پر 18 بینکوں سے معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ ایک ہفتے کے دوران 100 انڈیکس 4219 پوائنٹس بڑھ کر 1 لاکھ 62 ہزار 257 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا۔

پاکستان پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، اور ہر شہری پر 3 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد کا قرض ہے۔ رپورٹ میں مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ کی وسعت، اور پالیسی ریٹ میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معاشی استحکام لایا جا سکے۔

مہنگائی کی شرح میں کمی کے سرکاری دعوے عوام کو ریلیف نہ دے سکے۔ 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دیں۔

Gold Price Pakistan میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 3740 ڈالر جبکہ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 3 لاکھ 95 ہزار 800 روپے پر آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی سرمایہ کاروں کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے کا وقت ہے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی اور عدالتی مقدمات کے باعث آئی ایم ایف ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس 1641 پوائنٹس بڑھ کر 160,894 کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا۔ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے اور حکومتی اصلاحات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جبکہ ڈالر کی قیمت بھی کم ہوئی۔

سندھ حکومت نے خواتین کے لیے مفت الیکٹرک اسکوٹیز اسکیم کا آغاز کیا، جس سے خواتین کو سفری سہولیات اور روزگار کے مواقع میسر ہوں گے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے کو خواتین کی خودمختاری کے لیے اہم قرار دیا۔