سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ، شمالی و جنوبی شہروں میں فی بوری نئی سطح پر

سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ: ایک ہفتے میں ریٹیل نرخوں میں نمایاں فرق ریکارڈ

ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت حکومت نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ، تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور معیشت کی ڈیجیٹل بنیادوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ منگل کے روز ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دی گئی، جو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور اب اس سفر میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بغیر جدید معیشت کا تصور ممکن نہیں اور فائیو جی ٹیکنالوجی اس سمت میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل شمولیت میں اسپیکٹرم کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکٹرم جو نیلام نہیں ہو پاتا، درحقیقت ملک کے لیے ایک مالی نقصان کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف حکومتی آمدن متاثر ہوتی ہے بلکہ ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کی ترقی بھی رک جاتی ہے۔ ان کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے نہ صرف حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے عمل کو شفاف، مؤثر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی نے نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (نیرا) کے نام سے معروف بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔ نیرا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کی نگرانی میں تفصیلی مشاورت کا عمل مکمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ کنسلٹنٹ کی جانب سے نہ صرف تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کیا گیا بلکہ ماضی میں پاکستان سمیت خطے اور دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی اسپیکٹرم نیلامیوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ اس عمل کے ذریعے یہ جانچ پڑتال کی گئی کہ عالمی سطح پر اسپیکٹرم نیلامی کے لیے کون سے ماڈلز زیادہ کامیاب رہے اور کن عوامل نے ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس جامع تجزیے کی بنیاد پر اسپیکٹرم کی قیمت، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے مجموعی ڈیزائن سے متعلق سفارشات مرتب کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے عمل میں تمام بین الاقوامی معیارات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا تاکہ پاکستان کا ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر عالمی رجحانات کے مطابق ترقی کر سکے۔

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ ان سفارشات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور سب سے پہلے پاکستان کے قومی مفاد اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف نیلامی کے ذریعے آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا فریم ورک تیار کرنا ہے جس سے صارفین کو بہتر، تیز اور سستی ڈیجیٹل سہولیات میسر آ سکیں۔ اسی سوچ کے تحت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آج ان سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے بھی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کو ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ تعلیم، صحت، صنعت، زراعت اور ای گورننس جیسے شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لائے گی۔

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق فائیو جی کے ذریعے اسمارٹ سٹیز، ریموٹ میڈیکل سروسز، آن لائن تعلیم، خودکار صنعتی نظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا، جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹس اور ڈیجیٹل روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اس سے نہ صرف موبائل نیٹ ورکس کی استعداد بڑھے گی بلکہ ملک میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی کم تاخیر (Low Latency)، زیادہ رفتار اور بیک وقت بڑی تعداد میں ڈیوائسز کو منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو مستقبل کی معیشت کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف انداز میں مکمل کی جائے گی تاکہ تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو برابر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے گا تاکہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں۔

مجموعی طور پر فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری کو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرے گا بلکہ پاکستان کو خطے میں جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]