بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ، بجلی مزید سستی ہونے کا امکان

بجلی صارفین کو ریلیف دینے کا حکومتی فیصلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کیپٹو پاور لیوی سے بجلی سستی کرنے کی راہ ہموار، ماہانہ بنیادوں پر ریلیف دینے کا پلان

وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کو ایک اور بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ریلیف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پر عائد کی گئی کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کیپٹو پاور لیوی کی مد میں جمع ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر ماہ وصول ہونے والی لیوی کا فائدہ صارفین کو دو ماہ کے وقفے سے بجلی کے بلوں میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا، جس سے تمام کیٹگریز کے صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

وفاقی کابینہ پہلے ہی کیپٹو پاور لیوی سے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کی منظوری دے چکی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جیسے جیسے کیپٹو پاور لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، ویسے ویسے بجلی کے نرخوں میں مزید ریلیف دینے کی گنجائش بھی پیدا ہوتی جائے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں بجلی صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے کیپٹو پاور لیوی کے ذریعے بجلی سستی کرنے کا مکمل پلان آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا تھا، جس پر اتفاقِ رائے کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔ کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ العمل ہے، اور اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم بجلی کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے جون 2025 میں کیپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ نافذ کیا تھا، جس کے تحت کیپٹو پاور پلانٹس پر فوری طور پر 5 فیصد لیوی عائد کی گئی۔ اس قانون کے مطابق دوسرے مرحلے میں لیوی کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ فروری 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی شرح بڑھا کر 15 فیصد کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگست 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی مزید بڑھا کر 20 فیصد تک لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس قانون میں سخت کارروائی کی شقیں بھی شامل کی ہیں۔ لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت یکم فروری 2025 سے ہی کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس ٹیرف میں اضافہ کر چکی ہے۔ اس فیصلے کے تحت کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس کا ٹیرف 3 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 3 ہزار روپے کر دیا گیا تھا، اور اسی اضافے کے بعد کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار لیوی عائد کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ اقدام ایک طرف توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جانب اہم قدم ہے تو دوسری جانب عام بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش بھی ہے۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو آنے والے دنوں میں بجلی کے بلوں میں واضح کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے، جو مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہوگی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]