ٹرمپ ٹیرف دھمکیاں: یورپی ممالک کا دوٹوک انکار، گرین لینڈ پر سخت مؤقف

یورپی ممالک کی جانب سے ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کو مسترد کیا جا رہا ہے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

یورپ ٹرمپ کے دباؤ میں نہیں آئے گا، امریکی ٹیرف اور گرین لینڈ بیانات پر شدید ردعمل

یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے اور گرین لینڈ کے معاملے پر دی جانے والی سخت دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دے دیا ہے کہ یورپ دباؤ، بلیک میلنگ یا معاشی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بار پھر شدید تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عالمی سیاست اور معیشت دونوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کے رویے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی ممالک کے خلاف ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنا غلط، غیر منصفانہ اور اتحادی تعلقات کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم دباؤ اور دھمکیوں کی بنیاد پر تعلقات نہیں چلائے جا سکتے۔ وزیراعظم اسٹارمر کے مطابق اتحادی ممالک کو باہمی احترام اور سفارتی اصولوں کے تحت معاملات حل کرنے چاہییں۔

برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے بھی گرین لینڈ کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی طاقت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دھمکیوں یا معاشی دباؤ کے ذریعے کسی خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔

ڈنمارک کے وزیراعظم نے بھی امریکی صدر کے بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں میں ہرگز نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے اور اس کی حیثیت بین الاقوامی قوانین کے تحت طے شدہ ہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ صدر ٹرمپ دھمکیوں کے ذریعے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے مزید خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی امریکی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی سے نیٹو اتحاد شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے اور حتیٰ کہ نیٹو کے خاتمے جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان اعتماد اور مشترکہ دفاع کے اصولوں پر قائم ہے، نہ کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال پر۔

یورپ کے دیگر اہم ممالک نے بھی امریکی صدر کے مؤقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرمنی اور ناروے نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو کھلی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ معاشی دباؤ کے ذریعے سیاسی فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں عالمی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں۔

فرانس، سویڈن، فن لینڈ اور نیدرلینڈز کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کا معاملہ بین الاقوامی قانون، علاقائی خودمختاری اور عوامی حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یورپی ممالک کے اس سخت ردعمل کے پیش نظر یورپی یونین نے صورتحال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جو جمعرات کو منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں امریکی صدر کی جانب سے ممکنہ ٹیرف، یورپ کے مشترکہ ردعمل اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے حکام کے مطابق اگر امریکہ نے واقعی ٹیرف نافذ کیے تو یورپ بھی متبادل اقدامات پر غور کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یکم فروری سے یورپی ممالک سے امریکہ آنے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون سے یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ اس فہرست میں برطانیہ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں اس مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اعلان پر 100 فیصد قائم ہیں اور اگر گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک نے مخالفت جاری رکھی تو ٹیرف کا نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات اور اقدامات یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی سرد مہری کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف یورپ اور امریکہ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت، قدرتی وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث یہ معاملہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم یورپی ممالک کا متفقہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپ اس معاملے پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکی صدر کی ٹیرف دھمکیوں اور گرین لینڈ سے متعلق بیانات نے یورپ اور امریکہ کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یورپی یونین کے اجلاس اور امریکہ کے ممکنہ فیصلے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے، تاہم فی الحال یورپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، اتحادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]