پاکستان کی توانائی ضروریات میں اہم اضافہ، او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں تیل اور گیس دریافت کر لی
پاکستان کی توانائی کے شعبے کے لیے ایک نہایت خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی سب سے بڑی توانائی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ اس اہم دریافت کو ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ دریافت ضلع کوہاٹ میں واقع باراگزئی ایکس-01 (سلینٹ) نامی تحقیقی کنویں میں کی گئی ہے، جو نشپا ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت کھودا گیا۔ کمپنی نے اس دریافت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ منصوبہ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل 65 فیصد حصص کے ساتھ آپریٹر کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) 30 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) 5 فیصد حصص کی شراکت دار ہیں۔
کمپنی کے مطابق باراگزئی ایکس-01 کنویں میں Samana Suk اور Shinawari فارمیشنز سے تیل اور گیس کے نمایاں ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ’کیسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ‘ کے دوران حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق اس کنویں سے یومیہ تقریباً 3 ہزار 100 بیرل تیل اور 8.15 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے، جو ایک انتہائی حوصلہ افزا پیداوار سمجھی جا رہی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق یہ کنواں 30 دسمبر 2024 کو کھودا گیا تھا اور اسے 5 ہزار 170 میٹر کی گہرائی تک مکمل کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گہرائی پر کامیاب دریافت کمپنی کی تکنیکی مہارت اور جدید ڈرلنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دریافت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کا یہ خطہ تیل و گیس کے مزید امکانات سے بھرپور ہے۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں Kingriali اور Datta فارمیشنز میں تیل اور گیس کی کامیاب دریافت کی جا چکی ہے، جس سے علاقے کی مجموعی ہائیڈروکاربن پوٹینشل مزید مستحکم ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعدد فارمیشنز میں کامیاب دریافت اس بات کی علامت ہے کہ کوہاٹ بلاک مستقبل میں پاکستان کے اہم توانائی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ باراگزئی ایکس-01 میں ہونے والی یہ نئی دریافت نہ صرف کمپنی کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ ملک کے مجموعی توانائی کے ذخائر میں بھی بہتری لائے گی۔ اس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی مقامی پیداوار بڑھے گی، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی آئے گی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی کے شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ضروریات کے باعث تیل و گیس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر تیل اور گیس کی نئی دریافتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف توانائی کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا دیتی ہیں۔
اس پیش رفت کے تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پیر کے روز پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے بھی ضلع کوہاٹ میں واقع Bilitang-1 نامی تحقیقی کنویں سے گیس کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔ مسلسل چند دنوں کے دوران کوہاٹ کے علاقے میں تیل و گیس کی متعدد دریافتیں اس خطے کو توانائی کے حوالے سے ایک اسٹریٹجک حیثیت فراہم کر رہی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دریافتوں کے مثبت اثرات اسٹاک مارکیٹ، توانائی کے شعبے اور مجموعی کاروباری ماحول پر بھی مرتب ہوں گے۔ خاص طور پر او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جیسی بڑی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہونے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا، جس کا فائدہ ملکی معیشت کو مجموعی طور پر پہنچے گا۔
عوامی اور کاروباری حلقوں نے او جی ڈی سی ایل کی اس کامیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور توانائی کمپنیاں مستقبل میں بھی تلاش و پیداوار کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی تسلسل کے ساتھ توانائی کے نئے ذخائر دریافت ہوتے رہے تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکے گا بلکہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو باراگزئی ایکس-01 کنویں میں تیل اور گیس کی یہ نئی دریافت پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو ملکی معیشت، صنعتی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے ایک مثبت اور امید افزا پیغام ہے۔

