گرو نانک ایکسپریس وے کا قیام: کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کے ذریعے عالمی سیاحت کا مرکز بنیں گے
وفاقی حکومت نے مذہبی سیاحت کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کو قومی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی، جو خطے میں معاشی اور سیاحتی انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گرو نانک ایکسپریس وے کا قیام
وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو ہدایت کی ہے کہ سیالکوٹ سے کرتار پور تک ایک جدید ترین موٹروے تعمیر کی جائے، جسے سکھ مذہب کے بانی کے نام پر "گرو نانک ایکسپریس وے” پکارا جائے گا۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کا یہ لنک نہ صرف زائرین کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات بھی فراہم کرے گا۔
عالمی معیار کی سہولیات اور انفراسٹرکچر
اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ این ایچ اے صرف سڑکیں تعمیر نہیں کرے گا بلکہ ان راستوں پر عالمی معیار کے ریسٹ ایریاز، شاپنگ مالز اور جدید سروس ایریاز بھی بنائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کے گردوپیش میں تھری، فور اور فائیو اسٹار ہوٹلز کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ بیرون ملک سے آنے والے زائرین کو رہائش کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔
عالمی سطح پر تشہیر اور سرمایہ کاری
حکومت نے اس منصوبے کے لیے بیرون ملک مقیم سکھ کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ لندن، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی جائے گی۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کے ان منصوبوں کو عالمی روڈ شوز کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ پاکستان لایا جا سکے۔
علاقائی ترقی اور معاشی اثرات
یہ منصوبہ محض ایک سڑک نہیں بلکہ ایک "گیم چینجر” ثابت ہوگا۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے سے منسلک ہونے کے بعد نارنگ منڈی، بدو ملہی اور دیگر ملحقہ شہروں کی تقدیر بدل جائے گی۔ مقامی کسانوں اور تاجروں کو اپنی اجناس اور مصنوعات بڑے شہروں تک پہنچانے میں آسانی ہوگی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مذہبی سیاحت کا فروغ
پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کا قیام دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں سکھوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ زائرین جب پاکستان آئیں تو انہیں یہاں کا انفراسٹرکچر دیکھ کر خوشی ہو۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کے ذریعے دونوں مقدس مقامات کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا اور زائرین ایک ہی دن میں آسانی سے دونوں مقامات کی زیارت کر سکیں گے۔
اسلام آباد الیکٹرک ٹرام منصوبہ، سی ڈی اے کی فیزیبلٹی اسٹڈی کی ہدایت
عبدالعلیم خان نے این ایچ اے کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ منصوبے کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کی تعمیر میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تاکہ یہ طویل المدتی بنیادوں پر ملک کی خدمت کر سکے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب موٹروے کی تکمیل سے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا بھر میں ابھرے گا۔