فرعون، نمرود اور رضا شاہ جیسا انجام ٹرمپ کا بھی ہوگا: آیت اللہ خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ غرور اور طاقت کے نشے میں مبتلا حکمرانوں کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہوا ہے، اور جو انجام فرعون، نمرود اور رضا شاہ کا ہوا، وہی ٹرمپ کا بھی ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کیا، جس نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا میں ایک ایسا شخص موجود ہے جو غرور میں ڈوبا ہوا خود کو پوری دنیا کے فیصلے کرنے کا حق دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حکمرانوں کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر پہنچنے والے طاقتور ترین حکمران بھی بالآخر زوال کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق طاقت، دولت اور عسکری قوت کسی بھی شخص کو ابدی نہیں بنا سکتی، اور جو خود کو قانون اور اخلاقیات سے بالاتر سمجھتا ہے، اس کا انجام ہمیشہ تاریخ کے صفحات میں عبرت کے طور پر درج ہوتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فرعون، نمرود اور ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ بھی اپنے وقت کے طاقتور حکمران سمجھے جاتے تھے، مگر غرور اور جبر نے انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ عالمی رہنما، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، بھی اسی روش پر قائم رہے تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ خطے میں سیاسی، سفارتی اور عسکری بیانات کا تبادلہ جاری ہے، جب کہ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کی قیادت کی جانب سے سخت زبان کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران امریکا کی پالیسیوں کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکا اور اسرائیل پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایران میں بدامنی اور فسادات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کھلے عام لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف تخریب کاری کریں۔ ان کے مطابق یہ وہی طاقتیں ہیں جنہوں نے ماضی میں بھی ایران پر حملے کیے اور اب اندرونی انتشار پیدا کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت کو قوم کے اندر انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم باشعور ہے اور بیرونی سازشوں کو بخوبی پہچانتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن طاقتیں ایران کو کمزور سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عوام ہر مشکل وقت میں متحد ہو کر اپنے ملک کا دفاع کرتے رہے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر موجود مسائل کا حل مکالمے، اصلاحات اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے نکالا جائے گا، لیکن بیرونی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت اور متضاد بیانات دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے خلاف “بہت طاقتور آپشنز” پر غور کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے مبصرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری جانب دباؤ اور دھمکیوں کی زبان بھی استعمال کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی محض بیانات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران خطے میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا بیان محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی ہے، جس کا مقصد ایرانی عوام اور حامیوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ طاقت کا غرور ہمیشہ زوال کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایران خود کو مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا دکھانا چاہتا ہے اور امریکا کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جو دنیا پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی ان بیانات پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے اسے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ قرار دے رہے ہیں، جب کہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بیانات مستقبل میں ممکنہ مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
بہرحال، ایران کے سپریم لیڈر اور صدر کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو کھلے الفاظ میں مسترد کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے گی یا سفارتی کوششوں کے ذریعے کسی مفاہمت کی راہ نکل سکے گی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں خطے کا سیاسی درجہ حرارت خاصا بلند نظر آ رہا ہے، اور دنیا بھر کی نظریں ایران اور امریکا کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔

