خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر میں اضافہ، چند روز میں مزید دریافتوں کا امکان
ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک روز قبل ہی اسی ضلع میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہونے پر وزیراعظم نے قوم کو مبارک باد پیش کی تھی، جبکہ آج ایک اور اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید ذخائر کی دریافت کے بھی قوی امکانات موجود ہیں، جو پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تازہ پیش رفت کے مطابق پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کیے گئے ایک خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ضلع کوہاٹ میں واقع ٹال بلاک سے یومیہ 1.58 ایم ایم ایس سی ایف ڈی (ملین مکعب فٹ یومیہ) گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اس دریافت کو توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ملکی گیس کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
پی پی ایل کے مطابق ٹال بلاک میں واقع اس کنویں کی کھدائی کا آغاز 10 اگست 2025ء کو کیا گیا تھا، جس کی مجموعی گہرائی 4 ہزار 11 میٹر تک رکھی گئی۔ طویل اور جدید تکنیکی مراحل سے گزرنے کے بعد کنویں سے گیس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد کامیاب ٹیسٹنگ کے ذریعے اس ذخیرے کو دریافت کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گہرائی پر ہائیڈروکاربن کا ملنا اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔
خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کا بہاؤ 40/64 انچ چوک سائز کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ویل ہیڈ پریشر 164 پاؤنڈ فی مربع انچ (PSI) نوٹ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دریافت ہونے والا ذخیرہ تکنیکی طور پر قابلِ استعمال اور معاشی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ لمشیوال فارمیشن سے ہائیڈروکاربن ذخائر کا حصول کامیاب ٹیسنگ کے بعد مکمل ہوا، جسے پی پی ایل کے ماہرین نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق لمشیوال فارمیشن کو پہلے ہی ہائیڈروکاربن کے امکانات کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ دریافت نے ان خدشات کو عملی شکل دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف ملکی گیس کی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں بھی کمی آئے گی، جو پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔
پی پی ایل نے اپنے اعلامیے میں اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں ٹال بلاک سے مزید گیس اور تیل کے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ کمپنی کے مطابق علاقے میں مزید ایکسپلوریشن اور ڈرلنگ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ دستیاب وسائل کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ٹال بلاک پاکستان کے توانائی کے نقشے پر ایک اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اور معاشی حلقوں نے اس دریافت کو پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت سے نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی آئے گی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو گا۔ درآمدی تیل اور گیس پر اٹھنے والے اربوں ڈالر کے اخراجات میں کمی ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس خبر کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مقامی وسائل سے گیس اور تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات توانائی کی قیمتوں میں کمی اور لوڈشیڈنگ میں بہتری کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ذخائر سے حاصل ہونے والے فوائد عام آدمی تک پہنچائے جائیں۔
ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیل و گیس کے کئی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں ابھی مکمل ایکسپلوریشن نہیں ہو سکی۔ اگر جدید ٹیکنالوجی اور مستقل پالیسی کے تحت تلاش کا عمل جاری رکھا جائے تو ملک توانائی کے میدان میں خود کفالت کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ ٹال بلاک میں حالیہ کامیابیاں اسی سمت ایک امید افزا قدم ہیں۔
مجموعی طور پر خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے نہایت اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ایک روز میں مسلسل دوسری دریافت اور آئندہ مزید ذخائر کے امکانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو دانشمندی، شفافیت اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ ملک کو توانائی کے بحران سے نکال کر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

