لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے، ٹریفک پولیس کے تین اہلکار سمیت چار پولیس اہلکار شہید

لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے ، چار پولیس اہلکار شہید
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے، ٹریفک پولیس کے تین اہلکار سمیت چار پولیس اہلکار شہید، موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم دہشت گردوں نے اچانک ان پر فائرنگ

پشاور : خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں اتوار کے روز دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس کے تین اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ ضلع بنوں میں ایک الگ واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کانسٹیبل کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔

ضلع پولیس افسر لکی مروت کے ترجمان قدرت اللہ کے مطابق ٹریفک پولیس کے تین اہلکار سرائے نورنگ کے علاقے دل بیگو خیل کے قریب ڈیوٹی پر تعینات تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم دہشت گردوں نے اچانک ان پر فائرنگ کر دی۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں تینوں اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

روس کے صوبے خرسون پر حملہ: 24 ہلاک، 50 زخمی
خرسون کے ہوٹل پر حملے کے بعد تباہی کے مناظر؛ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں مصروف

ترجمان نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں ٹکٹنگ آفیسر انچارج جلال خان شامل ہیں، جبکہ دیگر دو اہلکاروں کی شناخت عزیز اللہ اور عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد لاشوں کو نورنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔

پولیس کے مطابق لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب ضلع بنوں کے علاقے کشفی خیل میں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل رشید خان شہید ہو گئے۔ بنوں کے ڈی پی او کے ترجمان آصف حسن نے بتایا کہ رشید خان اتوار کی صبح گھر سے ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا۔

لکی مروت اور بنوں میں دہشت گرد حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گرد عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]