منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ: آئی سی ای اہلکار کے ہاتھوں خاتون کی ہلاکت، شہر میں شدید احتجاج

منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ رینی نکول گڈ نامی خاتوں ہلاک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ: آئی سی ای اہلکار کے ہاتھوں خاتون کی ہلاکت، شہر میں شدید احتجاج، ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ نےواقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا۔


منیاپولس : امریکہ : امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون ہلاک ہو گئی، جس کے بعد شہر میں شدید احتجاج شروع ہو گیا اور مقامی و ریاستی قیادت نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مقتولہ کی شناخت رینی نکول گڈ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں انتہائی قریب سے اس وقت گولی ماری گئی جب وہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹوں سے اپنی گاڑی نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

عینی شاہدین اور وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق ایک نقاب پوش آئی سی ای اہلکار نے ہونڈا ایس یو وی میں موجود خاتون پر تین گولیاں چلائیں، جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے کھڑی گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے بعد موقع پر موجود شہری چیخ و پکار کرتے رہے اور وفاقی اہلکاروں پر غصے کا اظہار کرتے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد گاڑی کے اندر خاتون کی خون میں لت پت لاش دیکھی گئی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف

منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ کے فوراً بعد ٹرمپ انتظامیہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے دعویٰ کیا کہ خاتون نے آئی سی ای اہلکار کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں افسر نے ”دفاعی فائر“ کیا۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے اس واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ پورا دن آئی سی ای اہلکاروں کا پیچھا کر رہی تھی اور سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی تھی۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کا اہم اعلامیہ: غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا نیا پروگرام
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو واپسی پر 3 ہزار ڈالر دینے کا اعلان۔

مقامی قیادت کا ردعمل

منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے وائٹ ہاؤس کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ’بکواس‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ آئی سی ای کے اہلکار فوری طور پر شہر چھوڑیں۔

مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے وفاقی حکومت کے بیانات کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ کی مکمل، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔

احتجاج اور عوامی ردعمل

منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ کے بعد منیاپولس کی سرد سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نکل آئے جنہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا:

“ICE Out of MPLS”
(آئی سی ای منیاپولس سے باہر نکلو)

مظاہرین نے آئی سی ای کو شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک نیم فوجی ادارہ قرار دیا جو تارکینِ وطن کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کر رہا ہے۔

عینی شاہدین کے بیانات

ایک عینی شاہد برینڈن ہیوٹ نے بتایا کہ انہوں نے تین فائر سنے اور بعد میں دیکھا کہ ایمبولینس لاش کو لے جا رہی تھی۔

ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم مہاتیر محمد پھسل کر زخمی
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد جو حالیہ حادثے کے بعد اسپتال منتقل کیے گئے۔

ایک اور گواہ نے بتایا کہ گاڑی میں موجود ایک اور مسافر خون میں لت پت حالت میں باہر نکلا، جبکہ ایک شخص نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے زخمی خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی، مگر اہلکاروں نے اجازت نہیں دی۔

مقتولہ کا خاندانی مؤقف

مقتولہ کی والدہ ڈونا گینگر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی بیٹی کسی قسم کی مزاحمتی سرگرمی کا حصہ نہیں تھی اور ممکن ہے کہ وہ خوفزدہ ہو گئی ہو۔

انہوں نے کہا:

"میری بیٹی کسی کو نقصان پہنچانے والی نہیں تھی، وہ صرف گھبرا گئی تھی۔”

آئی سی ای پر بڑھتی تنقید

ٹرمپ دور میں آئی سی ای پر غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف سخت کارروائیوں، ناکافی تربیت یافتہ اہلکاروں اور طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات بڑھتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ برس محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے آئی سی ای کے موجودہ 6 ہزار اہلکاروں میں 10 ہزار مزید افسران شامل کرنے کی مہم شروع کی تھی، جس پر تربیت کے معیار سے متعلق سوالات اٹھے۔

حکام کے مطابق امیگریشن چھاپوں کے لیے اس وقت تقریباً 2 ہزار آئی سی ای اہلکار منیاپولس میں تعینات تھے۔ اس سے قبل بھی شکاگو سمیت دیگر شہروں میں اسی نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]