ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا نیا ریکارڈ قائم
ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا جہاں 274 کوہ پیماؤں نے ایک ہی دن میں دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرلی۔ اس تاریخی کامیابی نے کوہ پیمائی کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین کی جانب جانے والا راستہ بند ہونے کے باعث تمام کوہ پیما نیپال کے راستے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچے۔ اس سے قبل 2019 میں 223 کوہ پیماؤں نے ایک دن میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا، تاہم اب 274 کوہ پیماؤں نے اس ریکارڈ کو توڑ دیا ہے۔
نیپال کے راستے ایورسٹ سر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
نیپال حکومت کے مطابق رواں سیزن میں ایورسٹ پر چڑھائی کیلئے دنیا بھر سے بڑی تعداد میں کوہ پیما نیپال پہنچے۔ چین کا راستہ محدود ہونے کی وجہ سے نیپالی روٹ پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے رش اور ماحولیاتی خدشات کے باعث ایورسٹ پر چڑھائی کیلئے قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں جبکہ فیسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
پاکستانی کوہ پیما سلمان عتیق کی بڑی کامیابی
پاکستان کیلئے بھی یہ لمحہ فخر کا باعث بنا جب پاکستانی کوہ پیما Salman Atiq نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرلیا۔
سلمان عتیق نے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ نیپال حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے 464 پرمٹس میں سلمان عتیق واحد پاکستانی کوہ پیما تھے۔
ماؤنٹ ایورسٹ کی اہمیت
Mount Everest دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی تقریباً 8,848 میٹر سمندر کی سطح سے بلند ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے سینکڑوں کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایورسٹ سر کرنا نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ شدید سردی، کم آکسیجن اور خراب موسمی حالات کوہ پیماؤں کیلئے بڑے چیلنج ہوتے ہیں۔
نیپال حکومت کے نئے قوانین
نیپال حکومت نے حالیہ برسوں میں ایورسٹ پر بڑھتے ہوئے رش کے باعث نئے قوانین اور فیسوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کوہ پیماؤں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ماحولیات کا تحفظ کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایورسٹ پر غیر معمولی رش بعض اوقات خطرناک صورتحال پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے مستقبل میں کوہ پیمائی کے عمل کو مزید منظم بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی نوجوانوں کیلئے حوصلہ افزا مثال
سلمان عتیق کی کامیابی پاکستانی نوجوانوں کیلئے ایک بڑی حوصلہ افزا مثال بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے پاکستانی کوہ پیما کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ان کی کامیابی کو قومی اعزاز قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں کوہ پیمائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور اگر نوجوانوں کو مناسب سہولیات اور تربیت فراہم کی جائے تو پاکستانی کوہ پیما عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
کوہ پیمائی کے شعبے میں بڑھتی دلچسپی
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایڈونچر اسپورٹس اور کوہ پیمائی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل مہم جوئی اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کیلئے پہاڑی علاقوں کا رخ کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، نیپال اور دیگر پہاڑی ممالک میں کوہ پیمائی سیاحت کے فروغ سے معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے جبکہ عالمی سطح پر مثبت تشخص بھی اجاگر ہوتا ہے۔

