ٹرمپ انتظامیہ ایران پالیسی پر تقسیم، وائٹ ہاؤس میں شدید اختلافات کا انکشاف

وائٹ ہاؤس میں ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ تقسیم کا شکار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ انتظامیہ ایران پالیسی پر تقسیم، وائٹ ہاؤس میں شدید اختلافات کا انکشاف,

واشنگٹن: اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینئر حکام کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکا کی ایران کو منجمد اثاثے بحال کرنے اور یورینیم افزودگی کی پیش کش
امریکا نے ایران کو منجمد اثاثے بحال کرنے اور یورینیم افزودگی کی پیش کش کر دی

اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔

رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حالیہ تجاویز میں لچک موجود ہے اور ان کی بنیاد پر ابتدائی معاہدے کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے مؤقف اپنایا کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف سخت دباؤ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے اور مذاکرات سے خاطر خواہ نتائج کی امید کم ہے۔

اجلاس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک تھے جنہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے مؤقف کی حمایت کی۔ ذرائع کے مطابق اسی حمایت کے بعد صدر ٹرمپ ایران کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہوئے۔

ادھر امریکی اور ایرانی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تشویش میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ویب سائٹ “ایکسیوس” نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ امریکا ایران معاہدے کی خبروں کے بعد اسرائیلی قیادت میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سامنے آنے والے اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا میں ایران کے حوالے سے سخت گیر اور سفارتی دونوں مؤقف موجود ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں ایران امریکا مذاکرات خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]