‫دل کی بے ترتیب دھڑکن کا جدید علاج پاکستان میں، پمز میں PFA پروسیجر کا آغاز‬

پمز اسپتال میں دل کی بے ترتیب دھڑکن کے علاج کے لیے جدید PFA پروسیجر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پمز اسپتال میں امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی PFA پروسیجر شروع، دل کی بے ترتیب دھڑکن کا جدید علاج مفت دستیاب

دل کی بے ترتیب دھڑکن کا علاج اب پاکستان میں جدید ترین طبی سہولیات کے ساتھ ممکن ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جدید امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی پلسڈ فیلڈ ایبلیشن (PFA) پروسیجر کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے دل کی دھڑکن کے خطرناک مسائل میں مبتلا مریضوں کو مؤثر، محفوظ اور معیاری علاج میسر آئے گا۔

پمز اسپتال کے الیکٹرو فزیالوجی یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات اور معروف ماہر امراض قلب ڈاکٹر اختر بندیشہ نے بتایا کہ یہ جدید طریقہ علاج دنیا کے جدید ترین کارڈیک پروسیجرز میں شمار ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دل کی بے ترتیب دھڑکن، خصوصاً ایٹریل فبریلیشن (Atrial Fibrillation) جیسے امراض کا علاج زیادہ محفوظ انداز میں کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دل کی بے ترتیب دھڑکن ایک ایسا مرض ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں فالج، دل کے دورے اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں افراد اس بیماری کا شکار ہیں اور بہت سے مریضوں کو جدید علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا تھا، جس پر بھاری اخراجات آتے تھے۔

بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات نے بتایا کہ پمز میں PFA پروسیجر کامیابی سے انجام دیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق اس جدید طریقہ علاج کے ذریعے مریض کی دھڑکن تقریباً ایک گھنٹے کے اندر معمول پر لائی جا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں دل کے ارد گرد موجود حساس بافتوں کو کم نقصان پہنچتا ہے اور پیچیدگیوں کے امکانات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دل کی بے ترتیب دھڑکن کے مریضوں میں فالج کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج کیا جائے تو نہ صرف دل کی دھڑکن کو نارمل کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں فالج اور دل کے دورے کے خطرات کو بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اختر بندیشہ نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت جدید مشینری اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق PFA مشین کی مالیت تقریباً 80 کروڑ روپے ہے جبکہ مجموعی منصوبے پر 7.25 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان میں جدید امراض قلب کے علاج کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں PFA ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے کیونکہ یہ روایتی ایبلیشن طریقوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص برقی توانائی استعمال کر کے دل کے ان حصوں کا علاج کیا جاتا ہے جو بے ترتیب دھڑکن کا سبب بنتے ہیں۔

پاکستان میں اس جدید سہولت کی دستیابی سے نہ صرف مریضوں کو عالمی معیار کا علاج ملے گا بلکہ طبی شعبے میں تحقیق، تربیت اور جدید مہارتوں کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ملک کے دیگر بڑے اسپتالوں میں بھی ایسی سہولیات متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

READ MORE FAQS

‫PFA پروسیجر کیا ہے؟‬
‫‬
‫PFA (Pulsed Field Ablation) دل کی بے ترتیب دھڑکن کے علاج کا جدید اور محفوظ طریقہ ہے۔‬
‫‬
‫یہ سہولت پاکستان میں کہاں شروع کی گئی ہے؟‬
‫‬
‫اسلام آباد کے پمز اسپتال میں۔‬
‫‬
‫دل کی بے ترتیب دھڑکن کیا ہوتی ہے؟‬
‫‬
‫یہ ایسی کیفیت ہے جس میں دل معمول کے مطابق دھڑکنے کے بجائے بے قاعدہ رفتار اختیار کر لیتا ہے۔‬
‫‬
‫PFA پروسیجر کے فوائد کیا ہیں؟‬
‫‬
‫یہ دل کی دھڑکن کو نارمل کرنے، فالج اور دل کے دورے کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔‬

متعلقہ خبریں