برطانیہ کا پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ، ہنگامی قانون سازی متعارف
لندن: برطانیہ کی حکومت نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps – IRGC) کو کالعدم قرار دینے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہنگامی قانون سازی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی حمایت یافتہ سرگرمیوں کے خلاف قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت پاسدارانِ انقلاب کے علاوہ اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ اور روس سے منسلک جی آر یو والنٹیئر کور کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے رواں ہفتے کے آخر میں اس قانون کی منظوری دے دی تو ان تنظیموں کی جانب سے تخریب کاری، آتش زنی یا دیگر ریاستی خطرات میں ملوث افراد کو عمر قید سمیت سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کسی بھی ایسی غیر ملکی ریاست یا گروہ کو ملک میں خوف، تشدد اور تقسیم پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق حکومت قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس قانون سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان تنظیموں سے منسلک سرگرمیوں کے خلاف مزید اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ ان کی حمایت یا معاونت کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی قانون سازی کے تحت کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کی حمایت، مالی معاونت یا ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ حکومت ان تنظیموں کے لیے سرگرم افراد کو تلاش کر کے قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لائے گی اور برطانیہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
برطانوی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف پہلے ہی متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب پر مکمل پابندیاں اور ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر مختلف نوعیت کی پابندیاں شامل ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ حکومت برطانوی شہریوں کے تحفظ کے لیے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔
BREAKING: The UK government has announced that it is using its new powers to proscribe Iran's Islamic Revolutionary Guard Corps as a terrorist organisationhttps://t.co/aX8QkafamP
📺 Sky 501, Virgin 602, Freeview 233 pic.twitter.com/Dn5THjfuhk
— Sky News (@SkyNews) July 13, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: برطانیہ کس تنظیم کو کالعدم قرار دینے جا رہا ہے؟
جواب: برطانوی حکومت ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سمیت تین گروہوں کو کالعدم قرار دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
سوال 2: نئی قانون سازی کا مقصد کیا ہے؟
جواب: غیر ملکی ریاستوں کی حمایت یافتہ سرگرمیوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنا۔
سوال 3: اس قانون کے تحت کیا سزا ہو سکتی ہے؟
جواب: تنظیم کی حمایت یا معاونت پر 14 سال تک قید، جبکہ بعض سنگین جرائم میں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
سوال 4: برطانوی حکومت نے ایران پر پہلے کون سے اقدامات کیے ہیں؟
جواب: حکومت پہلے ہی ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب پر بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں نافذ ہیں۔






