ڈیجیٹل انقلاب کی دستک: پاکستان میں 5 جی سروسز کے لیے فروری 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر
پاکستان میں انٹرنیٹ کا نیا دور حکومتِ پاکستان نے ملک کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں 5 جی سروسز کا آغاز بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور انٹرنیٹ صارفین کو عالمی معیار کی رفتار فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
آئندہ 4 سے 6 ماہ میں عمل کی تکمیل وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ پاکستان میں 5 جی سروسز متعارف کروانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام تکنیکی اور قانونی مراحل کو آئندہ 4 سے 6 ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد محض ٹیکنالوجی لانا نہیں بلکہ اسے عام آدمی کی پہنچ تک فراہم کرنا بھی ہے۔
600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اس منصوبے کا سب سے اہم مرحلہ فریکوئنسی کی نیلامی ہے۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ حکومت 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی (Auction) کرنے جا رہی ہے۔ اس نیلامی کو فروری 2026 کے پہلے ہفتے تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں 5 جی سروسز کی کمرشل فراہمی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی میں اضافہ پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ انٹرنیٹ ہی پورے ڈیجیٹل نظام کی بنیاد ہے۔ وزیر آئی ٹی نے عزم ظاہر کیا کہ نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار بڑھائی جائے گی بلکہ دور دراز علاقوں تک اس کی رسائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان میں 5 جی سروسز کی آمد سے فری لانسرز، آئی ٹی کمپنیوں اور عام صارفین کو تیز ترین ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ کی سہولت میسر آئے گی۔
مشاورتی عمل اور کابینہ کی منظوری حکومت اس پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ٹیلی کام سیکٹر اور دیگر فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں جنہیں جلد وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں 5 جی سروسز کی کامیابی کا دارومدار ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر ہے۔
دنیا کے مقبول ترین اسمارٹ فونز کی فہرست جاری: سام سنگ گلیکسی اے 56 کی حکمرانی برقرار
ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل پاکستان میں 5 جی سروسز کا آغاز وزیر اعظم کے "ڈیجیٹل پاکستان” ویژن کی جانب ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف مواصلات میں بہتری آئے گی بلکہ تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی جدید ایپلی کیشنز کے ذریعے انقلاب برپا کیا جا سکے گا۔