وفاقی حکومت کا شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ سامنے آگیا
شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ – پاکستان کا اہم حکومتی اقدام
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور چینی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر وفاقی حکومت نے بالآخر شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد چینی کی مصنوعی قلت، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کا مؤثر خاتمہ کرنا ہے۔ ملک بھر میں چینی کی قیمت ایک خطرناک سطح تک جا پہنچی ہے جس نے حکومت کو فوری عملی اقدامات کرنے پر مجبور کیا۔

ملک بھر میں چینی کی قیمتوں کا بحران
چینی کی قیمتیں اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں انتہائی غیر مستحکم ہیں۔
- کوئٹہ میں چینی 230 روپے فی کلو
- کراچی، لاہور، پشاور میں 190 سے 200 روپے فی کلو میں دستیاب ہے
شوگر مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں شوگر ملوں کی جانب سے کرشنگ کے آغاز میں تاخیر، ذخیرہ اندوزی، اور حکومتی مداخلت کی کمی شامل ہیں۔ یہی وہ حالات تھے جن کے باعث حکومت نے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کے فیصلے پر غور شروع کیا۔
خصوصی کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو پیش
حکومت کی جانب سے قائم خصوصی کمیٹی نے شوگر مارکیٹ، پیداوار، برآمدات، درآمدات، لاگت اور طلب و رسد کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات تیار کر کے وزیراعظم کو ارسال کر دی ہیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم ہوگا اور مارکیٹ زیادہ شفاف انداز میں چلے گی۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر کا بیان
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اپنے بیان میں واضح کیا:
“اب مارکیٹ فورس فیصلہ کرے گی کہ چینی درآمد کرنی ہے یا برآمد۔ حکومت اس عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔”
رانا تنویر نے کہا کہ شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ خود اپنے اصولوں پر چلے، اور عوام کو مصنوعی مہنگائی سے نجات مل سکے۔
پنجاب میں شوگر ملوں کی صورتحال – کتنی ملیں فعال؟
پنجاب میں اس وقت 41 میں سے:
- 27 شوگر ملوں نے کرشنگ شروع کردی ہے
- 14 ملوں نے اب تک کرشنگ شروع نہیں کی
کین کمشنر پنجاب کے مطابق جن شوگر ملوں نے کرشنگ شروع نہیں کی ان کے خلاف ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کے لیے سخت جرمانے اور قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
مقرّرہ جرمانے اور حکومتی کارروائی
کین کمشنر نے اعلان کیا کہ:
“جو شوگر مل کرشنگ شروع نہیں کرے گی اس پر 10 لاکھ روپے یومیہ جرمانہ عائد ہوگا۔”
یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کرشنگ سیزن میں تاخیر نہ ہو، گنے کے کاشتکاروں کو نقصان نہ پہنچے اور مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا نہ ہو۔
ڈی ریگولیشن سے کیا تبدیلی آئے گی؟
ماہرین معاشیات کے مطابق شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کے بعد:
- چینی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا
- مل مالکان مارکیٹ اصولوں کے مطابق کام کریں گے
- حکومت پر سبسڈی اور پابندیوں کا بوجھ کم ہوگا
- برآمدات اور درآمدات میں شفافیت آئے گی
- مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں کمی ہوگی
پنجاب شوگر ملز کرشنگ—27 ملز نے کام شروع کیا، حکومت کا ایکشن پلان تیار
اگرچہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ڈی ریگولیشن سے قیمتیں اوپر بھی جا سکتی ہیں، لیکن معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ عمل طویل مدت میں عوام کے حق میں ثابت ہوگا کیونکہ مارکیٹ اصولوں کے مطابق چلنے لگے گی۔