جی ایچ کیو میں سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی کی جنرل عاصم منیر سے ملاقات

جی ایچ کیو سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی کی جنرل عاصم منیر سے ملاقات

سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی نے جی ایچ کیو میں جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، اسٹریٹیجک شراکت داری، انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ وفد نے یادگارِ شہداء پر پھول بھی چڑھائے۔

کل اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر آج دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ اس دوران وہ وزیراعظم، صدر اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ انہیں پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھی دیا جائے گا۔ دورے میں دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی۔

نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش کا کامیاب دورہ مکمل، علاقائی سلامتی و دفاعی تعاون پر بات چیت

چیف ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش کا کامیاب دورہ

اسلام آباد — پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کا بنگلہ دیش کا کامیاب دورہ مکمل ہوگیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی۔ دورے کے دوران پی این ایس سیف بھی چٹاگانگ کی بندرگاہ پر موجود رہا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اردن کا دورہ ، شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات

فیلڈ مارشلعاصم منیر کا اردن کا دورہ، شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران

اسلام آباد (رئیس الاخبار) — آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اردن کے سرکاری دورے کے دوران شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات ہوئی، جس میں دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ مصر:دفاعی تعاون، علاقائی امن اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر گفتگو

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ مصر , مصری قیادت سے ملاقات کرتے ہوئے

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مصر کے سرکاری دورے کے دوران مصری قیادت سے دفاعی تعاون، علاقائی امن، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فیلڈ مارشل نے مصر کے وزیر دفاع اور جامعہ الازہر کے شیخ اعظم سے ملاقاتیں کیں، جن میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی، اسلامی دنیا کے اتحاد، اور خطے کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ — خطے میں طاقت کا نیا توازن اور اس کے عالمی اثرات

پاک سعودی دفاعی معاہدہ

فریقین کے درمیان دستخط شدہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری اور سفارتی منظرنامے میں اہم تبدیلی لانے والا قرار دیا جا رہا ہے — معاہدہ کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت کا مترادف قرار دیتا ہے، جس کے سیاسی، فوجی اور نظریاتی اثرات وسیع ہوں گے۔

پاک بحرین دفاعی تعاون: کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ کا دورہ پاکستان

دفاعی تعاون

کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، مشترکہ تربیت، اور فضائی مشقوں کے ذریعے عسکری تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کیخلاف نہیں ہے، دفتر خارجہ

پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ، دفتر خارجہ کا موئقف

پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے کیا ہے جسے خطے میں سیاسی اور عسکری توازن کی نئی سمت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کو نشانہ بنانے کے بجائے محض باہمی تعاون اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے ہے۔ بھارت نے اس پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور،پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے سے بھارت میں تشویش کی لہر، ردِ عمل بھی آگیا

پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے , بھارت میں تشویش کی لہر

پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کر کے خطے کی سیاست اور سکیورٹی میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے، دفاعی تعاون بڑھائیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ بھارت نے اس پیشرفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے۔