پاکستان کو 6 نومبر کے پاک افغان مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے، دفترِ خارجہ

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کو 6 نومبر کو افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے۔ استنبول میں چار روزہ مذاکرات کے بعد پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ترجمان نے قطر اور ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔
دوحہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر متفق

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فوری جنگ بندی طے پا گئی۔ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک نئی امید بن کر سامنے آئی ہے، تاہم اصل چیلنج اعتماد کی بحالی اور دہشت گرد گروہوں پر قابو پانے کا ہے۔
پاکستان اب تاریخ کا تماشائی نہیں۔۔مرکزی کردار

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔