یمنی چیف آف اسٹاف عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک، حوثیوں کی تصدیق

یمن کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حوثی حکومت نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “جنگی جرم” قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے حملے کو دفاعی کارروائی کہا ہے۔
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے آیا ہے جہاں ایران، ترکی، اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
غزہ امن معاہدہ کے تحت حماس نے مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردیں

حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، انسانی بنیادوں پر اعتماد سازی کا نیا مرحلہ۔
ٹرمپ کا غزہ امن سربراہی اجلاس سے خطاب، معاہدے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ،شہبازشریف کو خطاب کی دعوت

شرم الشیخ میں منعقدہ تاریخی غزہ امن معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، السیسی، اردوان، امیر قطر اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔
اس معاہدے سے برسوں کی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “ہم نے جنگ نہیں، امن جیتا ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔”
غزہ جنگ بندی 2025: اسرائیل کی بربریت کے بعد دوپہر 2 بجے سے امن معاہدہ نافذ

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے بعد بالآخر جنگ بندی معاہدہ نافذ ہو گیا، جو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے سے عمل میں آیا۔ عالمی رہنماؤں اور مصری حکومت نے اس اقدام کو امن کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
قطر پر حملہ امریکا پر حملہ ایگزیکٹیو آرڈر جاری، قطر حملہ پر اسرائیل کی معذرت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کے بعد قطر کی سلامتی کی باضابطہ ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ اس پیشرفت نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی لہر دوڑا دی ہے اور سہ فریقی نظام کی تجویز نے علاقائی تعاون کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔
پاکستان اب تاریخ کا تماشائی نہیں۔۔مرکزی کردار

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔
غزہ جانے والے امدادی فوٹیلا پر حملہ، اٹلی اور اسپین کے حفاظتی بحری جہاز روانہ

غزہ جانے والی بین الاقوامی امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد اٹلی اور اسپین نے اپنی بحریہ کے جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق متعدد کشتیاں نشانہ بنیں اور کمیونی کیشن سسٹم متاثر ہوا، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یورپی ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور،پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے سے بھارت میں تشویش کی لہر، ردِ عمل بھی آگیا

پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کر کے خطے کی سیاست اور سکیورٹی میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے، دفاعی تعاون بڑھائیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ بھارت نے اس پیشرفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
عرب اسلامی سربراہی اجلاس: اسرائیل کو جارحیت کیلئے جواب دہ ٹھہرانے کا متفقہ مطالبہ

دوحہ میں ہونے والے ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف مسلم ممالک نے پہلی بار متفقہ مؤقف اختیار کیا۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ گریٹر اسرائیل کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
قطر کا ایک روزہ دورہ پر وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، حالیہ اسرائیلی حملے پر اظہار یکجہتی

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قطر کا ہنگامی دورہ کر کے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور برادر ملک کے عوام و قیادت سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔