تیراہ میں فضائی بمباری انسانی حقوق کمیشن کی تشویش اور شہریوں کی اموات پر صدمے کا اظہار

خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں فضائی بمباری اور شہریوں کی ہلاکتیں

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اسے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سواتی اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سہیل آفریدی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا۔ قومی اسمبلی کے رکن محمد اقبال خان آفریدی نے اسے قبائلی عوام کے ساتھ مسلسل زیادتی قرار دیا۔ ابھی تک وفاقی یا صوبائی حکومت کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں بھی شمالی و جنوبی وزیرستان میں اس نوعیت کے واقعات ہو چکے ہیں، جس سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ عوام نے انصاف کے مطالبے کے لیے احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب، ہم امن اور برابری کی بنیاد پر مسائل کا حل چاہتے ہیں

لندن میںشہباز شریف کا اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب میں کرتے ہوئے

وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالیہ معرکۂ حق میں دشمن کو سبق سکھایا اور اب فائر بندی کے بعد خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی بنیاد پر تمام تنازعات کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، غزہ میں انسانی بحران اور ملکی معیشت کے استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دفاع کے ساتھ ساتھ امن، ترقی اور سرمایہ کاری پر فوکس کرے گا۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا اور لیفٹیننٹ جنرل محمد فیض الرحمٰن کی ملاقات ، دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون پر زور

جنرل ساحر شمشاد مرزا اور لیفٹیننٹ جنرل محمد فیض الرحمٰن کی ملاقات — پاکستان اور بنگلہ دیش کے دفاعی تعلقات میں نئی پیش رفت

راولپنڈی میں پاکستان اور بنگلہ دیشی عسکری قیادت کی اہم ملاقات میں دفاعی تعاون کو بڑھانے اور خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور لیفٹیننٹ جنرل محمد فیض الرحمٰن نے انسداد دہشت گردی، عسکری تربیت اور علاقائی استحکام کے لیے قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں ،دنیا ہماری کاروائیوں کی معترف :وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف انسداد دہشت گردی اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے ۔دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کارروائیوں کی معترف ہے ۔
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی ، ریاستی رٹ کے قیام کے حوالے سے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گرد ی کے خاتمے کے لیے زمینی آپریشن ، متعلقہ قانون سازی ، بامعنی عوامی رابطے اورانتہاپسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات کیے گئے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار قابل تعریف ہے۔ارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں اور افسران پر پوری قوم کو فخر ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم ، بہادر افواج ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، انٹیلی جنس ادارے متحد اور یکسوں ہیں ۔ بہادر افواج نے آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح تسلیم کی ۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں ،انٹیلی جنس اداروں، وزارت داخلہ، کاؤنٹر ٹیرارزم ، پنجاب انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ نے جنگ میں موثر اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان فتنہ الہندوستان،فتنہ الخوارج اور دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین االاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتا ہے ۔اس حوالے سے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں ۔پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگ میں بہتری ، معیشت میں استحکام کی علامت ہیں ۔

وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں سمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی عالمی قوانین کے مطابق وطن واپسی پر عمل درآمد جاری ہے ۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی تعاون رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔